طیارہ سازش کیس، فائل غائب
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے خلاف طیارہ سازش کیس کے مقدمے کی فائل سندھ ہائی کورٹ سے کھوگئی ہے، اس مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے انہیں دو مرتبہ عمر قید اور املاک ضبط کرنے کی احکامات جاری کیئے تھے۔
میاں نواز شریف نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
فائل گم ہونے کا انکشاف اس وقت ہوا جب میاں نواز شریف کے وکلاء نے مقدمے کی تصدیق شدہ کاپی حاصل کرنے کے لیئے سندہ ہائی کورٹ کے دفتر سے رابطہ کیا۔
میاں نواز شریف کے وکیل ارشد جدون کے مطابق سندھ ہائی کورٹ کے نائب رجسٹرار کرمنل کے دفتر کو درخواست دی گئی تھی کہ تیس اکتوبر دو ہزار دو کو سندھ ہائی کورٹ کے طیارہ سازش کیس کے فیصلے کی کاپی فراہم کی جائے۔
ارشد جدون کا کہنا ہے کہ عملے نے انہیں زبانی طور پر بتایا ہے کہ یہ فائل دو ہزار سات سے لاپتہ ہے اور اس وقت اس کی تحقیقات کا بھی حکم جاری کیا گیا تھا اور ایڈیشنل رجسٹرار اشرف میمن اس کی انکوائری کر رہے تھے۔
نواز شریف کے وکیل کے مطابق انہوں نے جب ایڈیشنل رجسٹرار اشرف میمن سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ انکوائری رپورٹ رجسٹرار آفس کے حوالے کرچکے ہیں۔ صحافیوں کو بھی اشرف میمن نے یہ ہی جواب دیا۔
دوسری جانب انسداد دہشت گردی کی عدالت نے میاں نواز شریف کے وکلا کو مقدمے کی تصدیق شدہ کاپی فراہم کرنے کی ہدایت جاری کردی ہے۔
ارشد جدون کا کہنا ہے کہ مقدمے کی فائل گم ہونے کے بارے میں انہیں کبھی بتایا نہیں گیا تھا، اس وقت ہائی کورٹ میں کئی سال پرانا ریکارڈ موجود ہے اس کارروائی میں گزشتہ حکومت ملوث ہوسکتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف پر الزام ہے کہ انہوں نے بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے کو کولمبو سے کراچی آنے والی پی آئی اے کی پرواز پی کے 805 کو اترنے کی اجازت نہیں دی تھی، جس وجہ سے ایک سو اٹھانوے مسافروں اور عملے کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئیں تھیں۔ اس جہاز میں اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف بھی سوار تھے، جن کی قیادت میں بعد میں فوج نے اقتدار پر قبضہ کرلیا تھا۔
انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج رحمت حسین جعفری نے طیارہ سازش کیس میں میاں نواز شریف کو دو بار عمر قید، پچاس لاکھ جرمانے اور املاک ضبط کرنے کی سزا سنائی تھی اور شہباز شریف، سید غوث علی شاھ، شاہد خاقان عباسی، سیف الرحمان اور رانا مقبول کو بری کردیا تھا۔
اس فیصلے کے خلاف نواز شریف اور حکومت کی جانب سے سندہ ہائی کورٹ میں اپیلیں دائر کی گئیں تھیں، جس میں حکومت نے انسداد دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے کو رد کرکے سزائے موت دینے کی درخواست کی تھی اور نواز شریف کی جانب سے سزا کو کالعدم قرار دینے کی درخواست دی گئی تھی مگر ہائی کورٹ نے ایک بار عمر قید، پچاس لاکھ روپے جرمانے اور جائیداد ضبط کرنے کی سزا برقرار رکھی تھی۔
اس فیصلے کے کچھ دنوں بعد میاں نواز شریف، پرویز مشرف حکومت سے معاہدے کے تحت سعودی عرب چلے گئے تھے۔
ارشد جدون ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ وہ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے مقدمے کی فائل سپریم کورٹ کو فراہم کریں گے۔ عدالت خود ہی ہائی کورٹ کے رجسٹرار کو طلب کرکے فائل کے بارے میں دریافت کرے گی۔






















