’امریکی خواہش، کام زیادہ پیسے کم‘

- مصنف, اعجاز مہر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
بظاہر ایسا لگتا ہے کہ دہشت گردی کےخلاف جنگ کے متعلق امریکہ کی نئی پالیسی پر عمل درآمد کے لیے پاکستان اور امریکہ میں معاملات تاحال طے نہیں پاسکے ہیں۔
امریکی صدر باراک اوبامہ کے خصوصی ایلچی رچرڈ ہالبروک اور اعلیٰ امریکی کمانڈر مائیک مُلن کی پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت سے ہونے والی بات چیت کے بارے میں بعض دفاعی مبصرین کہتے ہیں کہ امریکہ پاکستان سے کم معاوضے پر زیادہ کام لینا چاہتا ہے۔
امریکہ اور پاکستان میں نئی پالیسی پر اختلافات کیا ہیں، یہی سوال میں نے پوچھا دفاعی امور کے ماہر اور سابق لیفٹیننٹ جنرل (ر) حامد نواز سے، تو انہوں نے کہا کہ امریکہ کی فرمائشیں بڑھ رہی ہیں۔
انہوں کا کہنا تھا امریکہ چاہتا ہے کہ 'پاکستان نہ صرف ڈرون حملوں کو قبول کرے بلکہ اس کا اگر دائرہ کار بڑھے تو اُسے (بھی) قبول کرے۔۔۔ اس کے علاوہ اگر امریکی فوج تعاقب کرتے ہوئے پاکستان میں آجائیں اور کوئی کارروائی کریں یا جس طرح ہیلی کاپٹر کے ذریعے اتر کر حملے کریں اس کی بھی مخالفت نہ ہو اور پاکستان کی پوری فوج امریکہ کے لیے کام کرے۔۔۔ جبکہ اس کے بدلے میں امداد ہے صرف ڈیڑھ ارب ڈالر اور اس کے لیے بھی کہتے ہیں کہ ہم اس پر نظر رکھیں گے‘۔
حامد نواز تو کہتے ہیں کہ ڈرون حملے پاکستان کو قبول نہیں لیکن سابق سیکریٹری خارجہ نجم الدین شیخ کہتے ہیں کہ ڈرونز حملے ٹھیک ہیں۔ 'میرا اپنا خیال یہ ہے کہ اگر ہم اس پر کام کرتے اور یہ تسلیم کرتے کہ جس علاقے میں ڈرون حملے ہوتے ہیں ان علاقوں پر ہمارا اپنا کوئی کنٹرول نہیں ہے، وہاں طالبان حکومت سے زیادہ طاقت میں ہیں‘۔
نجم الدین شیخ کہتے ہیں کہ 'بلوچستان تک ڈرون حملوں کا دائرہ امریکہ نہیں بڑھا سکتا لیکن پاکستان کو ڈراتا رہے گا اور دباؤ جاری رکھے گا۔‘
بعض مبصرین کا خیال ہے کہ افغانستان میں جنگ طویل ہونے پر امریکہ پریشان ہے کیونکہ ان کے اخراجات بہت بڑھ گئے ہیں اور امریکہ کی کوشش ہوگی کہ وہ وہاں مغربی ممالک کی فورسز کے ساتھ ساتھ مسلمان ممالک کی فوج کو تعینات کرے۔
ایسی ہی رائے ہے سابق لیفٹیننٹ جنرل (ر) حامد نواز کی اور وہ کہتے ہیں کہ 'افغانستان میں امریکہ کو اپنی فوج رکھنا بہت مہنگی پڑ رہی ہے اور اِس وقت وہ سستی فوج کی تلاش میں ہے۔ فرانس اور جرمنی کی مخالفت کے بعد اب امریکہ ترکی کی فوج کو لگانا چاہتا ہے اور اس کے بدلے وہ ترکی کو یورپی یونین میں شامل کرنے کے لیے اپنی مدد کا یقین دلا رہا ہے‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا ہے کہ امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان کی حکومت کے ساتھ ساتھ حزب مخالف کی جماعتیں بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کو پاکستان کی اپنی لڑائی قرار دیں اور اس کی کھل کر حمایت کریں۔
ایسا لگتا ہے کہ امریکہ کی نئی پالیسی پر عمل درآمد کے معاملے پر امریکہ اور پاکستان میں اختلاف رائے ہے اور پاکستان فی الوقت امریکہ کے شرائط پر کام کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ لیکن اس بارے میں سابق خارجہ سیکریٹری نجم الدین شیخ کہتے ہیں کہ 'پہلے بھی کچھ معاملات پر اختلاف رائے رہا ہے لیکن آخر کار یہ معاملات بات چیت کے ذریعے طے پا جاتے ہیں‘۔
امریکی صدر کے خصوصی ایلچی رچرڈ ہالبروک اور اعلیٰ امریکی کمانڈر مائیک مُلن نے جو پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت سے بات چیت کی ہے اس میں پاکستانی حکام نے امریکہ پر واضح کیا ہے کہ افغانستان میں بھارت کی بڑھتی ہوئی موجودگی انہیں قبول نہیں ہے۔
مبصرین کی رائے ہے کہ ماضی میں اس بارے میں صدر بش کی انتظامیہ نے تو اپنی آنکھیں بند رکھیں لیکن اب کی بار صدر باراک اوبامہ کے لیے ایسا کرنا خاصا مشکل کام ہوگا۔ نجم الدین شیخ کہتے ہیں کہ 'امریکہ اب ضرور اس معاملے کے متعلق پاکستانی تشویش کو ایڈریس کرے گا‘۔
بعض مبصرین کا خیال ہے کہ امریکہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی 'آئی ایس آئی‘ پر آئندہ دنوں میں اپنا دباؤ بڑھائے گا اور ان کی کوشش ہوگی کہ یہ ایجنسی شدت پسند گروہوں کی حمایت ختم کرے۔ اس بات کا اظہار مائیک مُلن نے صحافیوں کے ایک گروہ سے بات کرتے ہوئے بھی کیا اور کہا کہ ماضی میں بعض شدت پسندوں کی آئی ایس آئی حمایت کرتی رہی ہے جو ایک تشویش کی بات ہے اور اب یہ حمایت ختم ہونی چاہیے۔
تجزیہ کار کہتے ہیں کہ پاکستان کے وزیر خارجہ کی جانب سے یہ کہنا کہ 'پاکستان امریکہ سے کھلا چیک لے گا اور نہ ہی انہیں کھلا چیک دے گا‘، یہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان پرانی تنخواہ پر کام کرنے کو تیار نہیں اور پاکستان سترہ فروری کو ٹوکیو میں 'فرینڈز آف پاکستان' کے اجلاس میں دیکھےگا کہ انہیں کیا ملتا ہے؟ جس کی بنا پر ہی فیصلہ ہوگا کہ پاکستان 'ریڈ لائن' سے آگے جاتا ہے کہ نہیں۔!






















