حب، کشمور میں دھماکے، گیارہ زخمی

بلوچستان
،تصویر کا کیپشننیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ کے علاوہ بلوچ نیشنل فرنٹ نے دو روز تک شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کیا ہے
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
  • وقت اشاعت

بلوچستان کے شہر حب میں جامع مسجد کے قریب ایک دھماکے سے آٹھ افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ کوئٹہ سمیت دیگر علاقوں میں کشیدگی برقرار ہے۔

حب سے پولیس اہلکاروں نے بتایا ہے کہ دھماکہ آر سی ڈی شاہراہ پر جامع مسجد کے قریب ہوا ہے۔ مقامی شہری عبداللہ بلوچ نے بتایا ہے کہ انھوں نے خود اسی مسجد میں مغرب کی نماز ادا کی ہے اور جونہی وہ باہر آئے تو اس وقت دھماکہ ہوگیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پندرہ افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے دو کو زیادہ چوٹیں آئی ہیں۔ جس وقت دھماکہ ہوا اس وقت روڈ بلاک تھا۔

دوسری طرف پاکستان کے صوبہ سندہ میں بلوچستان سے متصل ضلعہ کشمور میں رینجرز کی چوکی کےقریب رینجرز گاڑی پر بم حملہ ہوا ہے جس کےنتیجےمیں ایک کیپٹن ڈاکٹر سمیت تین اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔

سکھر میں ہمارے نامہ نگار نثار کھوکھر نے کشمور پولیس کے ڈی پی اور یار محمد رند کے حوالے سے کہا ہے کہ رینجرز گاڑی پر ڈیرہ موڑ کےقریب ریموٹ کنٹرول بم کا حملہ اس وقت ہوا جب گاڑی معمول کے گشت پر جا رہی تھی۔بم انڈس ہائی وی پر کھڑی کی گئی ایک موٹر سائیکل میں نصب تھا جو رینجرز کی گاڑی قریب سے گزرنے پر دھماکے سے پھٹا۔

عینی شاہدین کاکہنا ہے کہ بم دہماکےکےبعد ڈیرہ موڑ کی ہوٹلوں پر بیٹھے افراد میں خوف و حراس پھیل گیا جبکہ زخمی رینجرز اہلکاروں کو ان کے ساتھی اہلکاروں نے ہسپتالوں کی طرف روانہ کردیا۔

بلوچ ریپبلکن آرمی کے ترجمان سرباز بلوچ نے کشمور کے صحافیوں کو فون کر کے بم حملے کی زدہ داری قبول کی ہے۔انہوں نےکہا ہے کہ بلوچستان میں قتل کیے گئے قومپرست رہنماؤں کا بدلہ لینے کے لیے رینجرز پر بم حملہ کیا گیا تھا۔

بم حملےمیں زخمی ہونے والے کیپٹن ڈاکٹر الہڈنو کو رحیم یار خان ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جبکہ ڈرائیور اقبال اور یوسف کو مقامی رینجرز ہسپتال میں طبی امداد دی جا رہی ہے۔کشمور پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کر دی ہے۔

ڈیرہ موڑ انڈس ہائی وی پر ایک ایسی جگہ واقع ہے جہاں پاکستان کے تین صوبوں ،سندہ ،پنجاب اور بلوچستان کی سرحدیں ملتی ہیں۔

دریں اثنا اپنے آپ کو بلوچ لبریشن آرمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے میرک بلوچ نے حب میں ہونے والے دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے اور کہا ہے کہ اس مسجد میں کوسٹ گارڈز آتے ہیں اور انہی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ میرک بلوچ نے آج صبح کوئٹہ میں پولیس کی موبائل گاڑی پر دستی بم سے حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے۔ اس حملے میں تین اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔

اس کے علاوہ بلوچستان کے مختلف شہروں میں ہنگاموں کے بعد خوف کی فضا پائی جاتی ہے۔ نینشل پارٹی اور بلوچستان نینشل پارٹی مینگل گروپ کے علاوہ بلوچ نیشنل فرنٹ نے دو روز تک شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کیا ہے جبکہ کل یعنی جمعہ کے روز تینوں بلوچ رہنماؤں کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔

یاد رہے بلوچ نیشنل موومنٹ کے سربراہ غلام محمد بلوچ، لالہ منیر اور بلوچ ریپبلکن پارٹی کے رہنما شیر محمد بلوچ کی لاشیں ملی ہیں جنہیں مبینہ طور پر خفیہ ایجنسی کے اہلکار جمعہ کے روز اٹھا کر لے گئے تھے۔

اس واقعہ کی اطلاع جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور کل رات جب سے اس واقعہ کی اطلاع ملی ہے صوبے کے مختلف علاقوں سے لوگوں میں تشویش بڑھ گئی تھی۔

بلوچ قوم پرست جماعتوں اور تنظیموں نے اس واقعہ کے خلاف شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے اعلی اہلکار جان سلیکی کی بازیابی کے حوالے سے قائم بلوچ دوست کمیٹی کے ترجمان نجیب بلوچ نے کہا ہے غلام محمد بلوچ اس کمیٹی کے رکن تھے اور ان کی ہلاکت بلوچوں کو اشتعال دلانے کے لیے کی گئی ہے۔ نجیب بلوچ کے مطابق جان سلیکی کو پانچ اپریل کو بازیاب کرایا گیا تھا جبکہ غلام محمد بلوچ اور ان کے ساتھیوں کو تین اپریل کو کچکول علی ایڈووکیٹ کے دفتر سے اٹھایا گیا تھا۔ نجیب بلوچ کے مطابق ایجنسیاں یہ نہیں چاہتی تھیں کہ جان سلیکی کو بازیاب کرایا جائے اس لیے انھوں نے غلام محمد کو اٹھایا تھا۔

بلوچ ریپبلکن پارٹی کے رہنما براہمدغ بگٹی نے کہا ہے کہ اس واقعہ کے بعد ان کا یہ دعویٰ درست ثابت ہوگیا ہے کہ دیگر بلوچوں کو بھی اسی طرح اٹھا کر ہلاک کیا گیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ اس واقعہ کے بعد ان کا وہ دعویٰ بھی درست ثابت ہوجاتا ہے جس میں سکیورٹی فورسز نے بے گناہ بلوچوں کو گرفتار کرکے ہلاک کر دیا تھا اور پھر ان کی لاشیں پشین اور نوشکی کے پہاڑوں میں پھینک دی گئی تھیں۔