’اٹھاون ٹو بی پر خصوصی کمیٹی‘

- مصنف, اعجاز مہر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
پاکستان کی قومی اسمبلی نے جمعہ کو اسمبلی کی تحلیل کے حوالے سے صدر کا اختیار ختم کرنے اور تیسری بار وزیراعظم یا وزیراعلیٰ بننے پر عائد پابندی ختم کرنے سمیت میثاق جمہوریت کے مطابق آئین اور مختلف قوانین میں ترامیم کے لیے تمام جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل خصوصی کمیٹی بنانے کی ایک متفقہ قرارداد منظور کی ہے۔
قرارداد میں سپیکر قومی اسمبلی کو سفارش کی گئی ہے کہ پارلیمان میں نمائندگی رکھنے والی تمام جماعتوں کی مشاورت سے یہ کمیٹی جلد سے جلد تشکیل دی جائے جوکہ آئین اور مختلف قوانین میں آمرانہ ادوار میں کی گئی ترامیم ختم کرنے کے لیے اپنی سفارشات کو حتمی شکل دے۔
قرارداد کی منظوری کا حکومت اور حزب مخالف کی تمام جماعتوں نے خیرمقدم کیا ہے۔ اس موقع پر وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ان کی جماعت نے جو بھی قوم سے وعدے کیے ہیں وہ پورا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت پارلیمان کو با اختیار بنانا چاہتی ہے اور اٹھاون ٹو بی کی جو تلوار اسمبلی پر لٹک رہی ہے اُسے ختم کرنا چاہتی ہے۔ ان کے مطابق انیس سو تہتر کے آئین کے بعد میثاق جمہوریت ایک بہت بڑا اہم دستاویز ہے جس پر عمل کرنے سے ملک میں پارلیمان اور جمہوریت مضبوط ہوگی۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت ملک میں احتساب کا ایسا نظام متعارف کرنا چاہتی ہے کہ کوئی اس پر انگلی نہ اٹھا سکے اور جیسے ماضی میں احتساب کے نام پر انتقام لیا جاتا تھا اُسے روکا جا سکے۔ ان کے مطابق احتساب کا یہ نظام میثاق جمہوریت کے مطابق ہوگا۔
بعض مبصرین کا خیال ہے کہ میثاق جمہوریت پر صدر کی جانب سے وزیراعظم کو لکھے گئے خط اور قومی اسمبلی سے اس پر عمل کرانے کی خاطر قرارداد کی منظوری کا مقصد مسلم لیگ (ن) کو وفاقی کابینہ میں شامل کرنے کی راہ ہموار کرنا ہے۔ ان کے مطابق جس تیزی سے حکومت اس معاملے پر آگے بڑھ رہی ہے اس سے بظاہر لگتا ہے کہ آئندہ ہفتے مسلم لیگ (ن) کی وفاقی کابینہ اور پیپلز پارٹی کی پنجاب حکومت میں شمولیت کا بریک تھرو ہو سکتا ہے۔
جمعہ کو پارلیمان کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پارلیمانی امور کے وزیر بابر اعوان نے بتایا کہ تیسری بار وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بننے پر جو پابندی عائد ہے وہ الیکشن آرڈر میں سادہ اکثریت سے ترمیم کرکے ختم کی جاسکتی ہے اور اس کے لیے صرف صدر کی رضامندی چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ جمعہ کو حکومت نے خواتین کو ہراساں کرنے پر سزا کا بل قومی اسمبلی میں پیش کر دیا ہے اور آئندہ ہفتے جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لیے مزید قانون سازی کے بل حکومت پیش کرے گی۔
جمعہ کو قومی اسمبلی اجلاس کے دوران بلوچستان سے منتخب رکن ایڈووکیٹ عثمان بلوچ نے تین قوم پرست رہنماؤں کے قتل کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچوں کا قتل عام کیوں ہو رہا ہے؟۔ انہوں نے جب انٹیلی جنس ایجنسیوں پر تنقید شروع کی تو سپیکر قومی اسمبلی نے انہیں بولنے سے روک دیا۔ جس پر وہ احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔ حکومتی اراکین نے انہیں منانے کی کوشش بھی کی لیکن وہ واپس نہیں آئے۔
بلوچستان میں تین رہنماوں کے قتل پر مسلم لیگ (ن) کے ایاز امیر نے بھی نکتہ اعتراض پر بات کی اور کہا کہ کیا انیس سو تہتر کا آئین بلوچستان پر لاگو نہیں ہوتا؟۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں حالات خراب کرنے اور بلوچ رہنماوں کے قتل میں خفیہ ایجنسیوں کے نام آ رہے ہیں۔ ابھی وہ بول ہی رہے تھے کہ سپیکر نے انہیں کہا کہ آپ کا موقف آ گیا ہے دوسروں کو بھی بولنے دیا جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی






















