معاہدہ، طالبان کی بونیر سے واپسی

سوات طالبان (فائل فوٹو)
،تصویر کا کیپشنصوبہ سرحد کےضلع بونیر میں ایک طالبان پولیس اہلکار کی لاش کے قریب کھڑا ہے
    • مصنف, عبدالحئی کاکڑ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

سوات کے طالبان اور ایک جرگے کے مابین ہونے والے معاہدے کے بعد طالبان جنگجوؤں کی بونیر سے واپسی شروع ہو گئی ہے۔

طالبان کے ترجمان مسلم خان کے مطابق معاہدہ طالبان اور بونیر سے تحریک نفاذ شریعت محمدی کے رہنما مولانا ولی اللہ کابل گرامہ کی سربراہی میں آنے والے ایک وفد کے درمیان مذاکرات کے بعد طے پایا۔

بی بی سی بات کرتے ہوئے مالاکنڈ ڈویژن کے کمشنر سید جاوید نے بھی طالبان اور بونیر کے وفد کے درمیان ہونے والے معاہدے کی تصدیق کی۔

بونیر سے آنے والے وفد نے پیر کے روز سوات کے طالبان اور بونیر کے مقامی لشکر کے درمیان ہونے والے جھڑپ پر معذرت کی اور اسے غلط فہمی کا نتیجہ قرار دیا۔

اطلاعات کے مطابق مذاکرات کمشنر ہاؤس سوات میں ہوئے جس میں طالبان کی نمائندگی مسلم خان، مولانا سراج الدین اور انجینئر محمود کمانڈر نے کی۔ مذاکرات میں مالاکنڈ کے چاروں اضلاع کے ضلعی رابطہ افسر اور پولیس کے ڈی آئی جی بھی موجود تھے۔

معاہدے کی رو سے مستقبل میں طالبان کے بونیر جانے پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں ہو گی۔ تاہم وہ بونیر میں اپنے زیر قبضہ پہاڑی چوٹیوں کو خالی کر دے سوات واپس آ جائیں گے۔

بعض اطلاعات کے مطابق بونیر سے طالبان کی واپسی کا عمل پہلے سے ہی شروع ہو چکا ہے۔

اس سے پہلے پیر اور منگل کے روز فریقین کے درمیان مذاکرات میں کسی قسم کی کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی تھی۔

بونیر جانے والے طالبان کا کہنا تھا کہ وہ ضلع بونیر میں قاضی عدالتوں کے قیام اور نگرانی کرنے کے لیے آئے ہیں جبکہ مقامی لوگوں کا مؤقف تھا کہ یہ کام حکومت خود کرسکتی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ طالبان نے تین پولیس اہلکاروں اور دو رضا کاروں کی لاشیں دو دن کے بعد بدھ کو حوالے کردی ہیں۔ ان کے مطابق طالبان نے شرط عائد کردی تھی کہ لاشوں کو وصول کرنے کے لیےصرف ایک گاڑی بھیجی جائے جس میں صرف ڈرائیور سوار ہو۔

یاد رہے کہ بونیر کے عوام اور سوات کے طالبان کے درمیان پہلے سے ہی اختلافات چلے آ رہے ہیں اور فریقین کے درمیان کئی مسلح جھڑپیں ہوئی ہیں۔ پچھلےسال بونیر میں قومی اسمبلی کے ضمنی انتخابات کے موقع پرطالبان نےشل بانڈئی میں پولنگ اسٹیشن پر مبینہ خودکش حملہ کیا جس میں تقریباً چالیس سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

سوات میں امن معاہدے کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ سوات کے طالبان مسلح صورت میں کسی دوسرے ضلع میں داخل ہوئے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس سے بعض حلقوں کے یہ خدشات تقریباً درست ثابت ہو رہے ہیں کہ امن معاہدے کے بعد طالبان دوبارہ منظم ہوکر دیگر علاقوں میں پھیل سکتے ہیں۔