بونیر: پیر بابا کا مزار طالبان کے حوالے

- مصنف, عبدالحئی کاکڑ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
- وقت اشاعت
صوبہ سرحد کے ضلع بونیر میں سوات سے آئے ہوئے طالبان واپس چلے گئے ہیں تاہم انہوں نے جاتے وقت پیر بابا کے تاریخی مزار اور دیگر علاقوں کا قبضہ مقامی طالبان کے حوالے کردیا ہے۔
طالبان کے ترجمان مسلم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے بونیر میں موجود طالبان کو حکم دیا ہے کہ وہ علاقے سے نکل کر واپس آجائیں اور پیر بابا کے مزار اور دیگر علاقوں کا قبضہ بونیر کے مقامی طالبان کے حوالے کر دیں۔
ان کے بقول بونیر کے طالبان اس وقت تک پیر بابا کے مزار میں موجود رہیں گے جب تک بقول ان کے وہاں سے ’شرک اور بدعات‘ کی نشانیاں مکمل طور پر نہ مٹادی جائیں۔
پیر بابا کے مزار میں موجود بونیر کے ایک طالبان جن کا دعویٰ ہے کہ انہیں حال ہی میں ضلع کا امیر مقرر کیا ہے بی بی سی سے بات کی ہے۔انہوں نے یہ کہہ کر نام بتانے سے انکار کیا ہے کہ انہیں طالبان قیادت نے ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ انہوں نے بھی کہا کہ پیر بابا کےمزار، بھٹئی، سلطان کس اور آس پاس کے علاقوں پر ان کا قبضہ بدستور برقرار ہے۔ ان کے بقول سوات کے طالبان واپس چلے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے مزار سے ’یا علی‘،’یا رسول اللہ‘ کے کلموں سے مزین بورڈ اور لائٹوں کو اتار دیا ہے۔
ان کے مطابق مزار میں مبینہ طور پر موجود ان تمام خطوط کو جلادیا گیا ہے جو مرحوم پیر سید علی ترمذی کے معتقدین نے ان کی وفات کے باوجود ان سے مدد مانگنے کے لیے لکھے ہیں۔ پیر بابا کا مزار چند سو سال قدیم ہے۔ مزار میں صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں سے روزانہ سینکڑوں زائرین حاضری دینے آتے ہیں۔ پیر سید علی ترمذی نے مغل بادشاہ اکبر کے دور میں وسط ایشیاء کے علاقے ترمذ سے آکر بونیر میں قیام کیا تھا۔
بونیر کے طالبان امیر کا یہ بھی کہنا تھا کہ مزار کو زائرین کے لیے بند کر دیا گیا ہے البتہ نماز کے وقت اس کو کھلا رکھا جائے گا۔ ان کے مطابق انہوں نے پیر بابا کے مزار کے قریب واقع بازار کے دکانداروں سے بھی کہا ہے کہ وہ منشیات اور دیگر غیر شرعی اشیاء فروخت نہ کریں جبکہ خواتین کو بھی بازار آنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ان کے بقول انہوں نے سلطان وس گاؤں میں مقامی لشکر کے سربراہ ملک فاتح خان کے گھر پر بھی قبضہ کرلیا ہے جبکہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ پہلے ہی گاؤں چھوڑ چکے ہیں۔
پولیس کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پیر بابا کے مزار اور آس پاس کے علاقوں پر طالبان کے قبضے کی تصدیق کی ہے۔ سوات کےطالبان کے بونیر سے نکلنے کے سلسلے کو رپورٹ کرنے کے لیے طالبان نے جن صحافیوں کو مینگورہ سے خصوصی طور پر بونیر پہنچایا ہے ان میں سے ایک صحافی نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے تین گاڑیوں میں سوار سوات کے طالبان کو بونیر سے نکلتے ہوئے دیکھا ہے جبکہ اس دوران انہوں نے مقبوضہ علاقے مقامی طالبان کے حوالے کردیے۔
یاد رہے کہ طالبان نے جمعرات کی رات بونیر کے عمائدین اور طالبان قیادت کے درمیان مینگورہ میں ہونے والے معاہدے کے باوجود جمعہ کی رات پیر بابا کے مزار پر قبضہ کرلیا تھا۔ صو بائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ سوات میں قاضی عدالتوں کے قیام کے بعد بونیر میں پیر بابا کے مزار اور دیگر علاقوں پر قبضے کا اقدام قابل مذمت اور بلاجواز ہے۔ ان کے بقول حکومت ان اقدامات کی روک تھام کرے گی۔البتہ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ روک تھام کیسے کی جائے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادھر قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں نامعلوم مسلح افراد نے حکومت حامی اور امن لشکر کے سربراہ کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا ہے۔ اس سے ایک دن قبل بھی ناوگئی بازار کے صدر محمد اسلام روحانی کو اغواء کرنے کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔
مقامی حکام کا کہنا ہے کہ حکومت حامی اور امن لشکر کے سربراہ ملک منیر کو سینیچر کو صدر مقام خار کے صادق آباد کے علاقے میں قتل کیا گیا۔ ان کے بقول نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔ ملک منیر طالبان کا گڑھ سمجھے جانے والے تحصیل ماموند میں امن لشکر کے سربراہ تھے اور تقریباً دو ماہ قبل طالبان نے عنایت قلعہ میں ایک کارروائی کے دوران ان کا محاصرہ بھی کرلیا تھا تاہم وہ بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ حکام کے مطابق انہیں مقامی طالبان کی طرف سے مسلسل دھمکیاں مل رہی تھیں جس کے پیش نظر حکومت نےانہیں خار میں سرکاری رہائش فراہم کردی تھی۔البتہ طالبان یا کسی اور گروہ نے ان کے قتل کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔






















