کابینہ میں شمولیت، ن لیگ کو باقاعدہ دعوت

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے پاکستان مسلم لیگ نون کے صدر میاں شہباز شریف کو وفاقی کابینہ میں شامل ہونے کی باقاعدہ دعوت دی ہے تاہم اس معاملے پر تاحال ڈیڈ لاک موجود ہے۔
وفاقی کابینہ میں شامل ہونے کی یہ دعوت اتوار کو وزیراعظم اور وزیراعلی پنجاب کے درمیان ہونے والی ملاقات میں دی گئی۔
ملاقات کے بارے میں ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ اطلاعات قمر زمان کائرہ نے بتایا کہ ملاقات میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وفاقی کابینہ میں شامل ہونے کے حوالے سے پاکستان مسلم لیگ نون کاایک بڑا مطالبہ معزول ججوں کی دو نومبر سنہ دو ہزار سات کی پوزیشن پر بحال تھا جسے پورا کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام جمہوری قوتوں کو مل کر ملک کو درپیش چیلنجوں کا سامنا کرنا چاہیے اور دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان تعاون ملک کے وسیع تر مفاد میں ہے۔
اس موقع پر وزیراعلی پنجاب میاں شہباز شریف نےکہا کہ وہ وفاقی کابینہ میں ان کی جماعت کی شمولیت کے بارے میں فیصلہ پارٹی کے قائد میاں نواز شریف سے مشاورت کے بعد کریں گے اور وزیر اعظم کو اس ضمن میں آگاہ کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ صدر آصف علی زرداری نے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو یہ اختیار دیا تھا کہ وہ وفاقی کابینہ میں شمولیت کے حوالے سے پاکستان مسلم لیگ نون سے مذاکرات کریں۔ چند روز قبل ایوان صدر میں پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے ارکان صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کی کابینہ کا اُس وقت حصہ بنے گی جب پاکستان مسلم لیگ نون مرکز میں وزارتیں قبول کریں گی۔
وفاقی وزیر اطلاعات قمرزمان کائرہ نے بتایا کہ ملاقات کے دوران میثاق جمہوریت پر عمل درآمد کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ملاقات میں میثاق جمہوریت کے روشنی میں سترہویں ترمیم میں تبدیلیاں کرنے کے طریقۂ کار پر بات چیت کی گئی۔ وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ اس ترمیم میں متنازعہ شقوں کے خاتمے کے لیے پارلیمانی کمیٹی آئندہ ایک دو روز میں تشکیل دی جائے گی جو اس میں متنازعہ شقوں کا جائزہ لینے کے بعد اپنی سفارشات حکومت کو دے گی جسے بعدازاں ایک بل کی صورت میں ایوان میں پیش کیا جائے گا۔
وزیراعظم اور وزیراعلٰی پنجاب کی ملاقات میں وزیر اطلاعات کے علاوہ پانی و بجلی کے وفاقی وزیر راجہ پرویز اشرف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر وائس چیئرمین مخدوم امین فہیم اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان بھی موجود تھے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ مخدوم امین فہیم کابینہ میں شامل ہونے کے بعد دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں شریک ہوئے ہیں۔


















