’نیب‘ کی جگہ قومی احتساب کمیشن

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
حکومت نے قومی احتساب بیورو کو ختم کر کے اُس کی جگہ عوامی عہدیداران کے احتساب کا ایکٹ مجریہ 2009 متعارف کروانے کا اعلان کیا ہے۔
پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر بابر اعوان نے اتوار کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایکٹ قومی اسمبلی کے رواں اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔
پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر نے کہا کہ عوامی عہدیداروں کے احتساب کمیشن کا صدر دفتر اسلام آباد میں ہوگا اور اگر کمیشن کے چیئرمین چاہیں گے تو اس کے دفاتر ملک کے دوسرے حصوں میں بھی کھولے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کمیشن کا چیئرمین سپریم کورٹ کاحاضر سروس یا ریٹائر جج یا ایسا سینیئر وکیل ہوگا جو سپریم کورٹ کا جج بننے کی اہلیت رکھتا ہو۔
انہوں نے کہا کہ اس کمیشن کی تشکیل کے حوالے سے پارلیمنٹ کی بارہ رکنی کمیٹی بنائی جائے گی جس میں چھ ارکان حکومتی بینچ سے جبکہ باقی چھ ارکان حزب اختلاف کی جماعتوں سے ہوں گے۔ بابر اعوان نے یہ بھی بتایا کہ اس کمیشن کے چیئرمین کا انتخاب وزیراعظم احتساب کمیشن کی تشکیل کی لیے بنائی جانے والی پارلیمنٹ کی کمیٹی اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے صلاح مشورے سے کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس کمیشن کا چیئرمین تین سال کی مدت کے لیے ہوگا جس کی مدت ملازمت میں توسیع نہیں کی جائے گی۔ بابر اعوان کا کہنا تھا کہ احتساب کمیشن کے چیئرمین کا انتخاب پہلے نوے دن کے لیے کیا جائے گا جس کے بعد اُس کو مستقل کرنے کے بارے میں فیصلہ کمیشن کے لیے بنائی جانے والی پارلیمانی کمیٹی کرے گی۔انہوں نے کہا کہ اس کمیشن کے دو ڈپٹی چیئرمین ہوں گے اور ان عہدوں پر ایسے افراد کو تعینات کیا جائے گا جو ہائی کورٹ کے جج بننے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
پارلیمانی امور کے وزیر نے کہا کہ ماضی میں احتساب کے نام پر سیاسی مخالفوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اس احتساب کی دھمکی دیکر بہت سے سیاستدانوں سے وفاداریاں بھی تبدیل کروائی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے یہ قانون سابق صدر سردار فاروق احمد خان لغاری کے دور میں بنایا گیا اور اس آرڈینینس کو سنہ 1997 میں ایکٹ آف پارلیمنٹ کے تحت پاس کروایا گیا جس کے بعد سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے 12 اکتوبر 1999 کو میاں نواز شریف کی حکومت کو ختم کرکے قومی احتساب بیورو بنا دیا جس کی سپریم کورٹ نے بھی توثیق کی تھی۔
پریس کانفرنس کے دوران بابر اعوان نے یہ اعلان بھی کیا کہ سوات میں نظام عدل ریگولیشنز کا بل پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیش ہوگا جس پر ارکان قومی اسمبلی کی آراء لی جائیں گی۔ واضح رہے کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ سوات کا معاملہ پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا اور پارلیمنٹ ہی اس کے متعلق فیصلہ کرے گی۔


















