سکھ یاتریوں کی تعداد میں کمی

سکھ یاتری(فائل فوٹو)
،تصویر کا کیپشنیاتریوں کو لاہور لانے کے لیے تیسری ٹرین چلانے کی ضرورت نہیں پڑی
    • مصنف, عباد الحق
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
  • وقت اشاعت

بیساکھی کے میلے میں شرکت کرنے لیے پاکستان آنے والے سکھ یاتریوں کی تعداد میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔

بیساکھی کے میلے کی تقریبات میں شرکت کے لیے خصوصی ٹرینوں کے ذریعے اس سال بھارت سے صرف تین سو سے قریب یاتری لاہور آئے ہیں حالانکہ ماضی میں یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔

ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی یاتریوں کو بھارت سے لاہور لانے کے لیے خصوصی ٹرین چلائی گئیں اور تین مختلف ٹرینوں کے ذریعے یاتریوں نے لاہور پہنچنا تھا۔ بھارت سے جو پہلی ٹرین لاہور پہنچی اس میں دو سو چونسٹھ جبکہ دوسری ٹرین میں صرف چالیس یاتری لاہور آئے اور اس طرح مزید یاتریوں کو لاہور لانے کے لیے تیسری ٹرین چلانے کی ضرورت نہیں پڑی۔ تاہم امکان ہےامکان ہے کہ بھارت سے یاتریوں کے مزید دو جتھے پیر کو واہگہ کے راستے لاہور پہنچیں گے۔

پاکستان میں یاتریوں کے استقبال اور ان کی دیکھ بھال کرنے والے ایک رضاکار ترن جیت سنگھ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان معاہدے کے تحت بیساکھی میلے میں شرکت کے لیے چار ہزار سکھ یاتری پاکستان آ سکتے ہیں اور ہر سال تین ہزار کے قریب یاتری بھارت سے پاکستان آتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے اس سال یاتریوں کے تعداد کم ہونے کی ایک وجہ پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات ہیں۔ پاکستان میں اس مرتبہ یاتریوں کی حفاظت کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ ترن جیت کے مطابق یاتریوں کی تعداد میں کمی کی دوسری وجہ بھارت میں ہونے والے انتخابات ہیں۔ ترن جیت کے بقول مختلف سیاسی جماعتوں کے کمیونٹی لیڈر انتخابی مہم میں مصروف ہیں اس لیے یاترا کی جانب توجہ نہیں دی گئی ہے۔