’امداد غیر مشروط ہونی چاہیے‘

- مصنف, اعجاز مہر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے امریکہ سے کہا ہے کہ پاکستان کے لیے مجوزہ امدادی پیکج کے ساتھ کوئی شرائط نہ لگائی جائیں۔
یہ بات انہوں نے پیر کو پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے امریکی سینیٹ کی خارجہ امور کے متعلق کمیٹی کے سربراہ جان کیری سے ملاقات میں کہی ہے۔
دریں اثناء جان کیری نے ایوان صدر میں صدر آصف زرداری سے بھی ملاقات کی ہے جس میں ٹوکیو میں ہونے والے فرینڈز آف پاکستان کے اجلاس کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ سید یوسف رضا گیلانی نے جان کیری سے کہا کہ پاکستان کے لیے امداد غیر مشروط ہونی چاہیے اور مشروط امداد سے خیر سگالی کے مطلوبہ نتائج نہیں حاصل کیے جاسکتے۔
وزیراعظم نے زور دیا کہ دونوں ممالک کی شراکت باہمی احترام اور اعتبار پر مبنی ہونی چاہیے اور دونوں ممالک کو بھروسے کی کمی کو دور کرنا چاہیے کیونکہ اعتماد کا فقدان باہمی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے لیے نقصان دہ ہے۔
وزیراعظم نے مزید کہا ہے کہ پاکستان شدت پسندی کا شکار ہے اور اس لعنت کو ختم کرنا اس کے اپنے مفاد میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈرونز حملوں سے شدت پسندی کے خاتمے کے متعلق ان کی حکومت کی کوششیں متاثر ہو رہی ہیں ۔
سید یوسف رضا گیلانی نے جان کیری پر زور دیا کہ امریکی حکومت یہ حقیقت تسلیم کرے کہ پاکستان اپنی مشرقی سرحدوں کو نطر انداز نہیں کرسکتا اور امریکہ مسئلہ کشمیر سمیت بھارت کے ساتھ تمام متنازعہ مسائل حل کرانے میں اپنا کردار ادا کرے۔
بیان کے مطابق جان کیری نے وزیراعظم کو بتایا کہ وہ اور ان کے دیگر ساتھی پاکستان کو نہایت ہی ضروری اقتصادی اور فوجی امداد دینے کے لیے قانون منظور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جان کیری بہت پرامید تھے کہ پاکستان کی امداد کے لیے حتمی قانون سازی کے وقت پاکستان کی شکایات کا ازالہ کیا جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی سینیٹ کی خارجہ امور کے متعلق کمیٹی کے سربراہ اور حکمران جماعت ڈیموکریٹ کے سرکردہ رہنماء سینیٹر جان کیری پیر کو اسلام آباد پہنچے ہیں، جہاں وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دونوں ممالک میں تعاون وسیع کرنے پر پاکستانی حکام سے بات چیت کر رہے ہیں۔
جان کیری نے ایوان صدر میں صدر آصف زرداری سے بھی ملاقات کی ہے جس میں خطے کی صورتحال اور رواں ماہ جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں ہونے والے فرینڈز آف پاکستان کے اجلاس کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔
جان کیری سے ملاقات میں صدر آصف زرداری نے کہاکہ فرینڈز آف پاکستان کے فورم سے ملنے والی امداد سے پاکستان کو معاشی اور سکیورٹی کے مسائل سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق جان کیری شاہ محمود قریشی سے سہ پہر کو باضابطہ ملاقات کے بعد شام چھ بجے کے قریب ایک مشترکہ پریس کانفرنس کریں گے۔

جان کیری پاکستان کو ساڑھے سات ارب ڈالر غیر فوجی امداد دینے کے لیے بِل امریکی سینیٹ میں پیش کر چکے ہیں۔ ’کیری۔لوگر بِل‘ کے نام سے پیش کردہ اس بل کی منظوری کے بعد پاکستان کو ڈیڑھ ارب ڈالر سالانہ امداد ملے گی۔
سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں پاکستان کو دی گئی دس ارب ڈالر کی امداد کے استعمال پر کوئی نظر نہ رکھنے پر سابق امریکی صدر بش پر کڑی تنقید کے بعد اوباما انتظامیہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ پاکستان متعلقہ رقم منظور شدہ مد میں ہی استعمال کرے۔
جان کیری ایسے وقت میں پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں ’جب دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان اور امریکہ میں ڈرونز حملوں اور پاکستان ’آئی ایس آئی‘ کے کردار کے حوالے سے فریقین میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔‘
گزشتہ ہفتے افغانستان اور پاکستان کے متعلق صدر اوبامہ کے خصوصی ایلچی رچرڈ ہالبروک اور اعلٰی امریکی فوجی کمانڈر مائیک مُلن کے ہمراہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے نیوز بریفنگ میں کہا تھا کہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کھلا چیک لے گا اور نہ ہی امریکہ کو کھلا چیک دے گا‘۔
بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ جان کیری کے اس دورے کا مقصد اختلافات کو ختم کرنا اور پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں اوباما انتظامیہ کی نئی پالیسی کو نتیجہ خیز بنانا ہے۔






















