نظام عدل مضمرات

تحریک نفاذ شریعت کے کارکن
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

پاکستان کی پارلیمان کی طرف سے شرعی نظام عدل ریگولیشن کی حمایت میں قرارداد کی منظوری کے بعد امکانات بڑھ گئے ہیں کہ صدر آصف علی زرداری کی طرف سے دستخط کے بعد اس قانون پر عمل درآمد شروع ہوجائے گا۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اس مسودے کی منظوری سے طالبان کو مالاکنڈ ڈویژن میں سرکاری طور پر سرپرستی حاصل ہوجائیگی۔

قوم پرست جماعت عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت نے اس سال سولہ فروری کو کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے ایک وفد سے پشاور میں معاہدے کے بعد مالاکنڈ ڈویژن کے سات اضلاع بشمول کوہستان میں شرعی نظام عدل کے نفاذ کا اعلان کیا تھا۔

اس ترمیمی مسودے کو نظام عدل ریگولیشن دوہزار نو کا نام دیا گیا ہے۔ یہ مسودہ انیس سو نناوے کے قانون میں، جو اس وقت مالاکنڈ ڈویژن میں نافذ العمل ہے، ترمیم کر کے ترتیب دیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ سرحد امیر حیدر خان ہوتی نےگزشتہ ماہ اس مسودے پر دستخط کر کے اسے حتمی منظوری کےلیے صدر مملکت آصف علی زرداری کو بھیج دیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ دوہزار نو کا نیا مسودہ انیسو نناوے کے قانون سے کتنا مختلف ہے اور اس میں کیا تبدیلیاں کی گئیں ہیں۔

پشاور میں ایک قومی اخبار سے وابستہ سینیئر عدالتی رپورٹر وسیم احمد شاہ کا کہنا ہے کہ نیا ترمیمی مسودہ اس لحاظ سے بھی پہلے آنے والے قوانین سے مختلف ہے کیونکہ اس کے تحت مالاکنڈ ڈویژن میں ’دارالقضاء اور دار لدارالقضاء‘ یعنی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ لیول کے بینچ قائم کئے جائیں گے۔

ان کے مطابق ان شرعی بنچوں میں ماتحت قاضی عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں دائر کی جاسکیں گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے تاحال یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ شرعی عدالتوں کے قیام کے بعد سوات میں قائم ریگولر یا عمومی عدالتیں کام کرتیں رہیں گی یا نہیں۔

کالعدم تحریک نفاذ شریعتی محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد کا موقف ہے کہ شرعی نظام عدل کی موجودگی میں عمومی عدالتوں کے وجود کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ انہوں نے انیس سو نناوے کے تحت قائم عدالتوں کی دوبارہ بحالی کے بعد ریگولر عدالتوں کے ججوں کو کہا تھا کہ وہ جلد از جلد سوات چھوڑ دیں۔

سرحد حکومت نے اس قانون پر عمل درامد کو سوات اور ملحقہ اضلاع میں حکومت کی مکمل عمل داری اور طالبان کی طرف سے ہتھیار ڈالنے سے مشروط کردیا تھا۔ اگرچہ سوات میں امن معاہدے کے بعد جھڑپوں اور ہلاکتوں کا سلسلہ تو رک گیا ہے تاہم وادی پر بدستور طالبان کا کنٹرول بتایا جاتا ہے۔

سوات بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر فیروز شاہ کا کہنا ہے کہ شرعی نظام عدل صرف طالبان کا مطالبہ نہیں بلکہ یہ پورے مالاکنڈ ڈویژن کے عوام کا ایک دیرینہ مطالبہ ہے جسے جلد از جلد عملی جامہ پہنانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کے نفاذ میں تاخیری حربے سوات کے امن کو ایک بار پھر تباہی کی جانب پہنچا سکتا ہے۔

سوات کے مسئلے پر گہری نظر رکھنے والے پروفسیر خادم حیسن کا کہنا ہے کہ اس قانون پر عمل درآمد سے طالبان کو مالاکنڈ ڈویژن میں سرکاری طور پرسرپرستی حاصل ہوجائی گی ۔

ان کے مطابق پارلمینٹ کی طرف سے قانون کی حمایت کے بعد اب بیرونی دنیا میں لوگ یہی سوچیں گے کہ پاکستان کی حکومت اور سیاسی جماعتیں طالبان کے ہمدرد اور حمایتی ہیں۔

اگرچہ ایک طرف اس قانون پر عمل درآمد سے طالبان کے طاقت میں مزید اضافے کا امکان موجود ہے تو دوسری طرف صوبائی حکومت کا موقف ہے کہ سوات کے مخصوص حالات اور وہاں امن قائم رکھنے کے لیے نظام عدل ریگولیشن کا نفاذ ضروری ہوگیا تھا۔