’ہر فیصلہ پارلیمنٹ میں ہوگا‘

ریگولیشن کے بل کی توثیق یا رد ہونے پر اس کی ذمہ داری صدر اور پیپلز پارٹی پر نہیں بلکہ پارلیمنٹ پر عائد ہوگی
،تصویر کا کیپشنریگولیشن کے بل کی توثیق یا رد ہونے پر اس کی ذمہ داری صدر اور پیپلز پارٹی پر نہیں بلکہ پارلیمنٹ پر عائد ہوگی
    • مصنف, عبدالحئی کاکڑ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

آپ ضرور سوچ رہے ہونگے کہ صدر آصف علی زرداری اب کیوں اتنے جمہوریت پسند ہوگئے ہیں کہ انہوں نے نظام عدل ریگولیشن کے ترمیمی مسودے پر دستخط ثبت کرنے کی بجائے اسے پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا قدم اٹھایا۔

آپ یہ بھی ضرور سوچ رہے ہونگے کہ خود کو سیکولر جماعت کہنے والی صوبہ سرحد کی حکمران قوم پرست جماعت عوامی نینشل پارٹی کب سے اتنی غیر جمہوری ہوگئی ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں ریگولیشن کو پیش کرنے کے معاملے پر قدرے ناراض نظر آرہی ہے؟

جب آپ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی سعی کریں گے تو آخری نتیجے کے طور پر آپ کو صدرِ پاکستان کا فیصلہ اصولاً درست لگے گا لیکن جب آپ اصول کے فریم سے نکل کر زمینی حقائق پر نظردوڑائیں گے تو شاید آپ کہہ اٹھیں کہ نہیں اے این پی کی ناراضگی بھی تو ایک حد تک بجا ہے۔ اے این پی جس کی سیاست کا مرکزصوبہ سرحد ہے اس کو معاہدے کے بعد اپنا سیاسی مستقبل بھی خطرے میں معلوم ہورہا ہے۔ اب تک پارٹی کے سو سے زائد عہدیدار اور کارکن شدت پسندوں کے حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔

اگلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور پاکستان میں تمام قانونی اور آئینی طاقت کا سرچشمہ آصف علی زرداری ایسا کیوں کررہے ہیں اور جمہوریت کی بیساکھیوں پر چل کر ایوانِ اقتدار پہنچنے والی اے این پی آخر کیوں اس جمہوری عمل پر ناراض بھی ہے اور دبے الفاظ میں بظاہر آنکھیں دکھانے کی کوشش بھی کررہی ہے۔

ماضی میں جب بھی معزول ججوں کی بحالی، سترھویں ترمیم کے خاتمے اور دیگر قومی معاملات پر پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور دیگر وزراء سے سوال کیا جاتا تھا تو وہ یہ جانتے بوجھتے کہ پارلیمنٹ میں ان کی ہی اکثریت ہے جواب دے دیتے کہ ’ہم جمہوری لوگ ہیں اس کا فیصلہ ہم جلد ہی پارلیمنٹ میں بل یا قرارداد پیش کرکے کریں گے‘۔

پیپلز پارٹی کے قائدین نے کچھ عرصے تک جان چھڑانے کے لیے اس مختصر جملے کا نسخہ کامیابی سے آزمایا لیکن جب تک لاہور سے نواز شریف کی لانگ مارچ نہیں نکلی تب تک وہ اپنی مرضی سے متازعہ معاملات پر پارلیمنٹ جانے سے عملاً کتراتے رہے۔

اب اچانک آصف علی زرداری نے اپنی ہی ’مرضی‘ سے نظام عدل ریگولیشن کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا لہٰذا اس کے پسِ پردہ سیاسی مقاصد کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

سوات میں تشدد کے خاتمے کے لیے صوبہ سرحد کی حکومت اور کالعدم نفاذ شریعت محمدی کے درمیان طے پانے والے معاہدے میں صوبائی حکومت نے ملاکنڈ ڈویژن میں قاضی عدالتوں کے قیام کے لیے نظام عدل ریگولیشن کے ترمیمی مسودے کی منظوری دے کر گورنر کے ذریعے دستخط کے لیے صدرِ مملکت کے پاس بھجوائی تو امن معاہدے کی کامیابی اور ناکامی کی ذمہ داری فردِ واحد صدر آصف علی زرداری اور اکلوتی جماعت پیپلز پارٹی پر ڈال دی۔

سوات امن معاہدے کی صورت میں قاضی عدالتوں کے قیام پر پاکستان کے اندر سول سوسائٹی اور لبرل حلقوں نے شور مچایا۔ امریکہ نے کبھی کھل کر تو کبھی زیر لب جن تحفظات کا اظہار کیا اس نے آصف علی زرادری کو آگے کھائی اور پیچھے سمندر والی کیفیت سے دوچار کردیا۔

لہٰذا امن معاہدے کی کامیابی اور ناکامی کی ذمہ داری سے اپنی ذات اور اپنی پارٹی کو بچانے کے لیے انہیں اپنا ماضی کا فارمولا یاد آیا کہ ’ہم جمہوری لوگ ہیں، ہر فیصلہ پارلیمنٹ میں ہوگا‘۔

آصف علی زرداری نے بڑی ہوشیاری سے ایک تیر سے تین شکار کیے۔ پہلا یہ کہ اگر پارلیمنٹ نظام عدل ریگولیشن کے بل کی توثیق یا پھر اسے رد کرتی ہے تو دونوں صورتوں میں اس کی ذمہ داری آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی پر نہیں بلکہ پارلیمنٹ پر عائد ہوگی۔

دوسرا یہ کہ پارلیمنٹ میں بل پیش ہونے کے بعد ان تمام پارٹیوں کا کردار بھی واضح ہوجائے گا کہ کون کہاں کھڑا ہے لہٰذا سیاسی طور پر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔

تیسرا یہ کہ پارلیمنٹ کے فیصلے کے بعد حکمران جماعت کے شریک چیئرمین صدر آصف علی زرداری کو بین الاقوامی برادری بالخصوص امریکہ اورمغربی ممالک کو رام کرنے میں اس لیے آسانی ہوگی کہ یہ سب کچھ نہ صرف جمہوری عمل کے ذریعے ہوا ہے بلکہ پارلیمنٹ کے سامنے تو وہ خود بھی بے بس ہیں۔

اب اگر پارلیمنٹ نظام عدل ریگولیشن کے بل کو پاس کرتی ہے تو پھر اے این پی اور پیپلز پارٹی کے درمیان سیاسی محاذ آرائی کا امکان کم ہوجائےگا لیکن معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے تو مستقبل میں سیاسی اور عسکری نقشہ بدل سکتا ہے۔

اگر پارلیمنٹ بالآخر کثرت رائے سے اس قضیے کا حل نکالتے ہوئے نظام عدل ریگولیشن، جس کو باہر کی دنیا شدت پسندوں کی شریعت سمجھتی ہے، منظوری دیتی ہے تو پھر شاید بین لاقوامی سطح پر یہ بحث بھی چھڑ جائے کہ پاکستان کی پارلیمنٹ میں طالبان حامیوں کی اکثریت بیٹھی ہوئی ہے۔