بلوچ قتل: عدالتی تحقیقات شروع

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
بلوچستان میں تین بلوچ راہنماؤں کے قتل کی تحقیقات کے لیے بلوچستان حکومت کی جانب سے ہائی کورٹ کے جج جسٹس نادر خان کی سربراہی میں بنائے گئے ٹربیونل نے منگل سے کارروائی کی ابتداء کر دی ہے۔
اس سے قبل انیس سو تہتر کو بلوچستان میں قوم پرست رہنما عبدالصمد خان کے قتل اور انیس سو چھیانوے کو ہزار گنجی کے علاقے میں سردار اختر مینگل کے جلوس پر حملے کی تحقیقات کے علاوہ فرقہ ورانہ ہنگامہ آرائی اور قتل کے واقعات کے لیے بھی ٹربیونل بنائے گئے تھے۔
سندھ ہائی کورٹ کے سابق جج اور بینظیر بھٹو کے استقبالیہ جلوس پر حملے کے تحقیقاتی ٹربیونل کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ غوث محمد کا کہنا ہے کہ اس طرح کے ٹربیونل انکوائریز ایکٹ کے تحت حقائق جاننے کے لیے بنائے جاتے ہیں جسے ریفرنس کے طور پر کچھ نقطے دیے جاتے ہیں اور یہ ٹریبونل تحقیقات کے بعد اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کردیتا ہے۔
قانون کے مطابق ٹریبونل کی جانب سے اخبارات میں یہ اشتہارات دیے جاتے ہیں کہ جو افراد اس واقعے کے بارے میں جانتے ہوں یا چشم دید گواہ ہیں وہ آکر شہادتیں ریکارڈ کرائیں۔
جسٹس ریٹائرڈ غوث محمد کے مطابق ضابطہ دیوانی کے مطابق ٹریبونل کے پاس گواہوں کو سمن جاری کرنے کے اختیارات اور کچھ فوجداری اور توہین عدالت کے اختیارات بھی ہوتے ہیں تاہم مکمل عدالتی اختیارات حاصل نہیں ہوتے ۔
قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ اگر لوگوں نے شہادتیں ریکارڈ نہیں کرائیں تو بلوچ راہنماوں غلام محمد بلوچ ، شیر محمد بلوچ اور لالہ منیر کے قتل کی تحقیقات کرنے والے ٹریبونل کو دشواری کا سامنا ہوسکتا ہے۔
اس بارے میں ماہرین کراچی میں نو اپریل اور چھبیس نومبر کی ہنگامہ آرائی کی مثال پیش کرتے ہیں۔ ان واقعات کی تحقیقات کرنے والے ٹریبونلز کے روبرو بھی شہادتین ریکارڈ نہیں کرائی گئی تھیں۔
سپریم کورٹ کے سابق جج اور مرتضٰی بھٹو قتل کیس کے تحقیقاتی ٹریبونل کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ ناصر اسلم زاہد کا کہنا ہے کہ عوامی دباؤ کی وجہ سے حکومت ٹریبونل بناتی ہے جو صرف سفارشات کرتا ہے مگر مرتکب افراد کو سزا دینا متعلقہ محکموں کا کام ہوتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے کہا کہ ’اس میں کوئی ملزم تو ہوتا نہیں، جو کسی کے خلاف جرم ثابت ہو تو سزا تجویز کریں۔ملزم تو عدالت میں ہوتا ہے۔انکوائری کی بنیاد پر ایف آئی آر درج کی جاسکتی ہے اور ان کے خلاف مقدمہ چلے گا۔ جتنے بھی بیانات ریکارڈ کیے جاتے ہیں ان کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی اس انکوائری کا مقصد یہ ہی ہوتا ہے کہ کیا کرنا چاہیئے۔‘
ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومتیں عوامی دباؤ سے نکلنے کے لیے یہ تحقیقاتی ٹریبونل بنا دیتی ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ دباؤ میں کمی آجاتی ہے اور بعد میں اکثر ان ٹریبونل کی سفارشات پر بھی عمل نہیں کیا جاتا کیونکہ قانون کے مطابق حکومت ان سفارشات پر عمل درآمد کی پابند نہیں ہوتی۔






















