مسلم لیگ ن پر سیاسی انتقام کا الزام

- مصنف, مناء رانا
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
- وقت اشاعت
پاکستان مسلم لیگ کی منحرف رکن صوبائی اسمبلی لیلیٰ مقدس نے اپنے خاندان کے افراد پر پیر کے روز درج ہونے والے مقدمات پر شدید رد عمل ظاہر کیا ہے اور الزام لگایا ہے کہ انہیں اور ان کے خاندان کو مسلم لیگ ن کی جانب سے سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر وزیر اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب دوست محمد کھوسہ کا کہنا ہے کہ لیلیٰ مقدس کے خلاف مقدمے درج ہونے میں مسلم لیگ ن کا کوئی ہاتھ نہیں۔
لیلیٰ مقدس، جنہوں نے فروری میں پنجاب میں نافذ کیے گئے گورنر راج کے بعد فارورڈ بلاک بنایا تھا، ان کا کہنا ہے کہ اس دن مسلم لیگ ن کے ورکروں نے اپنی لیڈر شپ کے ایما پر ان کے گھر پتھر پھینکے اور جب انہوں نے ان کے خلاف مقدمہ درج کروایا تو عدالت کے احاطے میں بھی ان پر اور ان کے گھر والوں پر پتھراؤ کیا۔
لیلیٰ مقدس نے کہا کہ مسلم لیگ ن کا یہ رویہ غیر جمہوری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خود مسلم لیگ ن نے ق لیگ کے تریپن اراکین کو خوش آمدید کہا۔ اگر وہ ن لیگ کے رہنماؤں کی پالیسیوں اور رویوں سے تنگ آ کر فارورڈ بلاک میں آئیں تو انہیں برا بھلا کہا جا رہا ہے، ان کو دھمکیاں دی جا رہیں ہیں اور ان پر اور ان کے خاندان پر جھوٹے مقدمے بنائے جا رہے ہیں۔
لیلی مقدس نے کہا کہ انہوں نے مسلم لیگ ن سے علیحدگی اس لیے اختیار کی کیونکہ وہ اسمبلی میں موجود خواتین کو ان کے حقوق دینا نہیں چاہتے تھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسلم لیگ کے رہنما اسمبلی میں مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والی خواتین کو ملازماؤں سے زیادہ حیثیت نہیں دیتے اور انہیں کسی قسم کے ترقیاتی بجٹ نہیں دیے جاتے۔
پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماء، صوبائی وزیر اور سابق وزیر اعلی پنجاب دوست محمد کھوسہ کا کہنا ہے کہ ’جب سے لیلیٰ مقدس نے پیپلز پارٹی والوں کے ساتھ مل کر پریس کانفرنس کی ان کو ہماری پارٹی میں حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور کوئی ان کا ذکر بھی نہیں کرنا چاہتا اور ن لیگ کے قائدین کو کوئی ضرورت نہیں کہ ان پر مقدمے درج کروائے۔‘
انہوں نے کہا کہ لیلیٰ مقدس نے پنجاب میں گورنر راج لگانے کے بعد ذاتی مفاد کے لیے پارٹی چھوڑی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ لیلیٰ مقدس کے سسر نے پیپلز پارٹی سے کروڑوں روپے کے فائدے اٹھائے۔ دوست محمد کھوسہ نے کہا کہ مسلم لیگ ق کے تریپن اراکین کا فارورڈ بلاک بنانا لوٹا کریسی نہیں جبکہ لیلیٰ مقدس کا فارورڈ بلاک بنانا لوٹا کریسی کے زمرے میں آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان تریپن اراکین نے پارٹی نہیں چھوڑی بلکہ ان کا پہلے دن سے ہی یہ مؤقف رہا ہے کہ تمام مسلم لیگوں کو اکٹھا ہونا چاہیے اور انہوں نے دراصل فارورڈ بلاک نہیں بلکہ یونیفکیشن بلاک بنایا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما صوبائی رکن اسمبلی قاسم ضیاء دوست محمد کھوسہ کی بات سے متفق نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جس طرح ق لیگ کے تریپن اراکین نے فارورڈ بلاک بنایا ہے اسی طرح لیلیٰ مقدس نے بھی فارورڈ بلاک بنایا ہے اور دونوں باتوں میں کوئی فرق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن خود تو تریپن اراکین کو خوش آمدید کہہ رہی ہے اور جس رکن اسمبلی نے انہیں چھوڑا یا ان پر تنقید کی انہیں انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور یہ بات جمہوریت کے منافی ہے اور مسلم لیگ ن ماضی کی سیاست ہی کو دہرا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ لیلیٰ مقدس کے خاندان کے خلاف درج ہونے والے مقدمات کی وہ پرزور مذمت کرتے ہیں ان مقدمات کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قاسم ضیاء نے کہا کہ ایک طرف تو دونوں جماعتوں میں مفاہمتی عمل جاری ہے اور دوسری جانب انتقامی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدام سے مفاہمتی عمل متاثر ہو گا۔
پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما دوست محمد کھوسہ نے یہ بھی باور کرایا کہ ان کی پارٹی وفاق میں وزارتیں لینا نہیں چاہتی البتہ آخری فیصلہ میاں نواز شریف کے وطن واپس آنے کے بعد کیا جائے گا۔
اس تمام صورتحال سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور شریف برادران کے درمیان حالیہ ملاقاتوں کے باوجود دونوں جماعتوں کے درمیان کافی بڑی خلیج موجود ہے۔






















