معاشی منظرنامے کا انحصار ٹوکیو اجلاس پر

- مصنف, آصف فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
عالمی بینک کے جنوبی ایشیا کے لئے نائب سربراہ نے کہا ہے کہ سترہ اپریل کو ٹوکیو میں ہونے والے ’فرینڈز آف پاکستان‘ کے اجلاس سے پاکستان کو چار سے چھ ارب ڈالر کی مالی امداد ملنے کی توقع ہے۔
واشنگٹن سے جاری ہونے والے بیان میں عالمی بینک کے جنوبی ایشیا کے لئے نائب سربراہ اسابیلہ گوریرو نے کہا کہ یہ ترقیاتی امداد سترہ ’دوست‘ ممالک کے گروپ کی جانب سے پاکستان کے معاشی نظام پر اعتماد کی مظہر ہوگی۔
’فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان‘ نامی یہ گروپ گزشتہ برس امریکہ اور برطانیہ کی کوششوں سے تشکیل دیا گیا تھا جس کا مقصد پرویز مشرف کے دور کے خاتمے کے بعد بننے والی نئی سیاسی حکومت کو سیاسی اور اخلاقی حمایت فراہم کرنا تھا۔
اس گروپ میں سترہ ممالک شامل ہیں جن میں جرمنی اور فرانس سمیت بہت سے یورپی ممالک کے علاوہ چین اور جاپان سمیت متعدد ایشائی ممالک بھی شامل ہیں۔
فرینڈز آف پاکستان کے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی صدر پاکستان آصف علی زرداری کی زیر سربراہی ایک اعلٰی سطحی وفد کرے گا۔
مشیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ حکومت اس اجلاس میں دوست ممالک سے وہ پینتیس ارب ڈالر وصول کرنے کے لئے اپنا کیس پیش کرے گی جس کا نقصان اسے سنہ دو ہزار ایک میں شروع ہونے والی دہشت گردی کی جنگ میں اب تک اٹھانا پڑا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان نے گزشتہ برس ملک کو درپیش سنگین مالی بحران سے نکلنے میں مدد دینے کے لئے اس گروپ سے مالی تعاون کی درخواست کی تھی جسے یہ کہہ کر مسترد کر دیا گیا تھا کہ فرینڈز آف پاکستان کا فورم کیش فراہم نہیں کر سکتا اور اس میں شامل ممالک پاکستان میں ترقیاتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
اس دو ٹوک انکار کے بعد پاکستان مجبوراً بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے سخت شرائط پر قرض لینے پر مجبور ہوا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سرد جنگ کے دوران اور اس کے بعد یہ ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ مالی امداد امیر ممالک اور اداروں کی جانب سے ضرورت مند اقوام کے لیے کسی حد تک سیاسی رشوت کے طور پر استعمال ہوتی ہے اور آئی ایم ایف اور عالمی بنک جیسے تکنیکی ادارے بھی سیاسی مفادات کے بغیر غریب ممالک کو قرض یا مالی امداد فراہم نہیں کرتے۔
اب عالمی بینک کے ایک سینیئر افسر کی طرف سے یہ یقین دہانی، بعض ماہرین کی نظر میں اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی پالیسیوں کے بارے میں عالمی برادری میں گو مگو کی کیفیت ختم ہو گئی ہے، جو چند ماہ پہلے تک انہیں پاکستان کو مالی امداد دینے کی راہ میں رکاوٹ تھی۔
معاشی ماہرین ٹوکیو اجلاس کو اس لیے بھی اہمیت دے رہے کہ اگلے مالی سال کی اقتصادی منصوبہ بندی کرنے کے لیے پاکستان کے پاس مالی وسائل نہیں ہیں۔ گزشتہ برس آئی ایم ایف سے ملنے والے سات اعشاریہ آٹھ ارب ڈالر میں سے بیشتر غیر ملکی قرض کی مد میں پہلے ہی خرچ ہو چکے ہیں۔
اب حکومت کے سامنے جون سے شروع ہونے والے نئے مالی سال کے لیے بجٹ کی تیاری کا مرحلہ ایک عظیم مسئلے کے طور پر درپیش ہے۔ گزشتہ برس بھی حکومت نے ترقیاتی اخراجات میں چالیس فیصد تک کمی کر کے بجٹ کسی نہ کسی طرح تیار کر لیا تھا۔ اس بار ماہرین معیشت نے حکومت کو بتایا ہے کہ بار بار ترقیاتی اخراجات میں اس قدر کٹوتی ملک میں بیروزگاری میں اچانک اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
اس لئے ماہرین کے مطابق پاکستان کے آئندہ معاشی منظر نامے کا کُلی طور پر انحصار فرینڈز آف پاکستان کے آئندہ ہفتے ٹوکیو میں ہونے والے اجلاس پر ہے۔






















