قاضی عدالتوں میں تعیناتی آئین کے تحت

- مصنف, اعجاز مہر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
پاکستان کے صوبہ سرحد کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات میں نافذ کردہ ’شرعی ریگولیشن 2009‘ کے تحت سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے بینچ بھی متعلقہ علاقوں میں قائم ہوں گے اور تمام عدالتوں میں تعیناتی پاکستان کے آئین کے تحت ہوگی۔
گزشتہ روز منظور کیے جانے والے سولہ صفحات پر مشتمل شرعی ریگولیشن کے مطابق شرعی عدالتوں کے احکامات پر تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سروس آف پاکستان کے حکام عمل کرانے کے پابند ہوں گے۔ اس شرعی ضابطے کا اطلاق مانسہرہ سے ملحقہ قبائلی علاقہ جات اور سابقہ ریاست امب کے علاقوں کے علاوہ جو بھی صوبائی قبائلی علاقے ہیں وہاں پر ہوگا۔ متعلقہ علاقہ جات میں قائم عدالتوں کے زیر سماعت مقدمات کے فیصلے بھی شرعی قانون کے مطابق ہوں گے۔
شرعی عدالتوں میں جو فریق جس فقہ سے تعلق رکھتا ہوگا اس پر سنت نبوی کی وہی تشریح لاگو ہوگی جس فقہ سے ان کا تعلق ہوگا۔ غیر مسلموں کے خلاف شرعی قوانین کے تحت فیصلہ نہیں ہوگا بلکہ ان کے مروجہ قوانین، متعلقہ روایات اور اصولوں کے تحت فیصلے ہوں گے۔ ان عدالتوں کی تمام کارروائی اردو، پشتو یا انگریزی زبانوں میں ہوگی۔
اس ضابطے کے تحت شرعی قوانین میں قرآن، سنت، اجماع اور قیاص کو بنیاد قرار دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے بینچ بھی متعلقہ علاقوں میں قائم ہوں گے۔ سپریم کورٹ کا نام ’دارل۔دارلاقضا‘ جبکہ ہائی کورٹ کا نام ’دارلاقضا‘ ہوگا۔ ان کے ججوں کو قاضی کہا جائے گا۔ ڈسٹرک اینڈ سیشن جج ضلع قاضی، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سیشن جج اضافی ضلع قاضی، سینیئر سول جج اعلٰی علاقہ قاضی اور سول جج/ مجسٹریٹ علاقہ قاضی کہلائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایگزیکٹو میجسٹریٹ کی عدالت بھی قائم ہوگی۔
سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کی بینچوں پر تعیناتی پاکستان کے آئین کے مطابق ہوگی۔ ماتحت عدلیہ میں صوبائی حکومت قابل جوڈیشل افسر تعینات کرے گی اور حکومت کے تسلیم شدہ تعلیمی اداروں سے شرعی کورس کرنے والے افراد کو ترجیح دی جائےگی۔ تمام جوڈیشل افسران کا کردار اسلامی اصولوں کے عین مطابق ہوگا۔ ہر ضلع میں حکومت ضلع مجسٹریٹ، ایڈیشنل ضلع مجسٹریٹ، سب ڈویزنل اور ایگزیکٹو مجسٹریٹ تعینات کرے گی۔ لیکن وہ تمام امور شریعت کے مطابق سرانجام دیں گے۔ مجسٹریٹ ضابطہ فوجداری، خصوصی یا علاقائی قوانین کے تحت ایسے معاملات جس میں سزائیں تین سال تک ہیں ان کی سماعت کرسکیں گے۔
کسی تھانے پر مقدمہ درج ہونے کے چوبیس گھنٹے کے اندر پولیس افسر متعلقہ قاضی یا مجسٹریٹ کو اطلاع دینے کا پابند ہوگا۔ دوران تفتیش پولیس افسر پیش رفت کے متعلق بھی مجاز حکام کو معلومات فراہم کرےگا۔ پولیس افسر ہر مقدمے کا جوڈیشل فائل تیار کرنے کے علاوہ اس کی تین کاپیاں بھی جمع کرانے کا پابند ہوگا۔
سول یا دیوانی معاملات میں مدعا علیہ سات روز کے اندر جواب دینے کا پابند ہوگا، بصورت دیگر عدالت دفاع کا حق ختم سمجھتے ہوئے فیصلہ کرسکتی ہے۔ لیکن اگر عدالت ضروری سمجھے تو سات روز کا مزید وقت بھی دیا جاسکتا ہے لیکن اس سے زیادہ کسی صورت اضافی وقت نہیں دیا جاسکتا۔ عدالت گواہی مکمل ہونے پر فریقین کو زبانی یا تحریری طور پر دلائل کا ایک بار پھر موقع دے گی اور مقررہ تاریخ سے زیادہ معاملے کو طول دیے بغیر فیصلہ سنانے کی پابند ہوگی۔
فوجداری اور سول مقدمات میں اگر عدالت سے کوئی فریق تاریخ مانگے تو اس کے اضافی اخراجات جو کم از کم دو ہزار روپے ہوں گے وہ متعلقہ فریق ادا کرنے کا پابند ہوگا۔ شرعی قانون کے تحت سول کیس کا زیادہ سے زیادہ چھ ماہ اور فوجداری مقدمے کا فیصلہ زیادہ سے زیادہ چار ماہ تک فیصلہ کرنا لازم ہوگا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قاضی کے خلاف اگر کوئی شکایت ہے تو ضلع قاضی انہیں ناپسندیدگی کا خط لکھے گا اور اگر کسی قاضی کو ایک سال میں تین ایسے خط ملیں گے تو اس کا اندراج سروس ریکارڈ میں بھی ہوگا۔ اگر کسی ضلع قاضی یا ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی عدالت میں زیر التویٰ مقدمات کی تعداد ڈیڑھ سو اور اعلٰی علاقہ قاضی کی عدالت میں زیر التویٰ مقدمات کی تعداد دو سو ہوجائے گی تو حکومت ایک اور متعلقہ عدالت قائم کرنے کی پابند ہوگی۔
عدالتیں فریقین کی رضامندی سے حدود قوانین کے علاوہ کسی فوجداری یا سول معاملے کو مصلح/ مصلحین یعنی صلح کرانے والے کے پاس بھی بھیج سکتی ہیں۔ مصلح/ مصلحین فریقین کے دلائل سننے کے بعد اپنی رائے بمع اسباب تحریر کرے گا۔
کسی فریق کی شکایت پر یا عدالت خود سے بھی کوئی معاملہ مصلح/ مصلحین سے واپس بھی لے سکتی ہے۔ مصلحین پندرہ روز میں فیصلہ کرنے کے پابند ہوں گے۔ مصلحین کا فیصلہ اکثریت رائے کا تسلیم ہوگا لیکن اختلاف رائے کرنے والا اپنا نکتہ نظر بھی تحریر کریں گے اور عدالت اس پر مزید کارروائی کرے گی۔ مصلح/ مصلحین اگر تفتیش کی غرض سے کہیں جاتے ہیں تو انہیں اخراجات ادا کیے جائیں گے۔






















