’قانونی مدد فراہم کریں گے‘

برطانیہ میں پاکستان کے سفیر واجد شمس الحسن نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے شبہہ میں گرفتار کیے جانے والے پاکستانی طالب علموں کو قانونی مدد اور مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا۔
ان کا یہ بیان برطانیہ میں دہشتگردی کی منصوبہ بندی کے الزام میں بارہ افراد کی گرفتاری کے بعد آیا ہے۔ ان میں سے گیارہ پاکستانی ہیں جو سٹوڈنٹ ویزا پر برطانیہ آئے تھے۔
بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے واجد شمس الحسن نے کہا کہ برطانیہ حکومت نے اب تک سرکاری طور پر دہشت گردی کے شبہہ میں برطانیہ کے مختلف شہروں سے گرفتار کیے جانے والے طالب علموں کے بارے میں کچھ نہیں بتایا ہے۔
برطانیہ اور پاکستان کے مابین معلومات کے تبادلے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے سے بھرپور تعاون کرتے ہیں لیکن اس معاملے میں ایسا نہیں کیا گیا۔
برطانوی اخبارات سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر انہوں نے کہا کہ لگتا ہے کہ اس معاملے میں برطانوی اداروں سے ’گڑ بر‘ ہو گئی ہے اور یہ معاملہ ان کی شرمندگی کا باعث بنے گا۔
انہوں نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق برطانوی حکومت ان طالب علموں کو ملک بدر یا پاکستان واپس بھیجنے کے بارے میں سوچ رہی ہے۔ تاہم برطانوی حکومت کے خلاف یہ طالب علم برطانوی عدالتوں میں جائیں گے۔
واجد شمس الحسن نے ان طالب علموں کی گرفتاری کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک حکومت پاکستان کو کوئی تفصیل نہیں فراہم کی گئیں اور صرف شبہے کی بنا پر ان کو ’مجرم‘ قرار دے دیا ہے۔
انہوں نے اس تاثر کو رد کیا کہ پاکستان حکومت اس معاملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
برظانوی پولیس کے مطابق آپریشن کے دوران دہشتگردی کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کیے جانے والے بارہ افراد سے تفتیش جاری ہے۔ ان افراد کو مانچسٹر، لیورپول اور لنکاشائر کاؤنٹی کے علاقے کلیتھ رو سے حراست میں لیا گیا ہے۔






















