مولانا عبدالعزیز کی رہائی کا حکم

مولانا عبدالعزیز
،تصویر کا کیپشنمولانا عبدالعزیز کے خلاف تمام مقدمات بدنیتی پر درج کیے گئے تھے: وکیل
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز کی لال مسجد سے ملحقہ چلڈرن لائیبریری پر قبضے کے خلاف دائر مقدمے میں ضمانت منظور کرتے ہوئے اُنہیں رہا کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ عدالت نے مولانا عبدالعزیز کے وکیل کو کہا ہے کہ وہ دو لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے عدالت میں جمع کروائیں۔

واضح رہے کہ مولانا عبدالعزیز کے خلاف ستائیس مقدمات درج کیے گئے تھے جن میں سے پچیس مقدمات میں اسلام آباد ہائی کورٹ اور دیگر عدالتوں نے ضمانتیں منظور کر لیں تھیں جبکہ ایک مقدمے میں اُنہیں بری کردیا گیا تھا۔

بدھ کے روز جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے مولانا عبدالعزیز کی ضمانت کی درخواست کی سماعت شروع کی تو لال مسجد کے سابق خطیب کے وکیل شوکت عزیز صدیقی نے اس درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اسلام اباد کی انتظامیہ نے مولانا عبدالعزیز کے خلاف ستائیس مقدمات درج کیے گئے تھے جن میں سے پچیس مقدمات میں اسلام آباد ہائی کورٹ اور دیگر عدالتوں نے ضمانتیں منظور کر لیں تھیں جبکہ ایک مقدمے میں اُنہیں بری کردیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ مولانا عبدالعزیز کی ضمانت کی درخواست گزشتہ برس جولائی میں دائر کی گئی تھی لیکن اس پر اُس وقت کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے کوئی کارروائی نہیں کی۔

شوکت صدیقی کا کہنا تھا کہ چلڈرن لائبریری کا مقدمہ لائبریری کے چوکیدار کی درخواست پر درج کیا گیا تھا جس میں اُن کے مؤکل کی اہلیہ اور بیٹی کو بھی گرفتار کیا گیا تھا بعدازاں عدالت نے ان دونوں خواتین کو ضمانت پر رہا کردیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ مولانا عبدالعزیز کے خلاف تمام مقدمات بدنیتی پر درج کیے گئے تھے جس میں پولیس اور انتظامیہ اُن کے خلاف ان مقدمات میں کوئی شواہد عدالت کے سامنے پیش کرنے میں ناکام رہی۔

واضح رہے کہ وزارت داخلہ نے اسلام آباد کی انتظامیہ کو ہدایات جاری کی تھیں کہ وہ مولانا عبدالعزیز کے خلاف دائر مقدمات میں انسداد دہشت گردی کی دفعات کو ختم کردیں۔

ضابطہ فوجداری کے تحت ڈپٹی کمشنر جوکہ ضلعی انتظامیہ کا سربراہ ہوتا ہے اُس کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ کسی بھی سرکاری مقدمے کو واپس لے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ضلعی انتظامیہ کو یہ ہدایات بھی دی گئی تھیں کہ وہ مولانا عبدالعزیز کی ضمانت کی مخالفت نہ کریں۔

مولانا عبدالعزیز کے خلاف پولیس اور چینی باشندوں کے اغوا، لال مسجد آپریشن کے دوران رینجرز کے اہلکار کا قتل اور چلڈرن لائبریری پر قبضے کے مقدمات انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج کیے گئے تھے۔

مولانا عبدالعزیز کو جولائی سنہ دوہزار سات میں لال مسجد کے آپریشن کے دوران اُس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ برقعہ پہن کر فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

اس فوجی آپریشن کے دوران مولانا عبدالعزیز کی والدہ، اُن کے بیٹے اور چھوٹے بھائی غازی عبدالرشید سمیت سو سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

مولانا عبدالعزیز کو پہلے اڈیالہ جیل میں رکھا گیا تھا تام بعدازاں اُنہیں راول ڈیم کے قریب ایک ریسٹ ہاوس میں رکھا گیا پھر اُنہیں اسلام آباد ہائی وے پر واقع ایک رہائشی کالونی میں ایک گھر کرائے پر لیکر اُنہیں وہاں متقل کیا گیا تھا اور اُسے سب جیل قرار دیا گیا تھا۔ مولانا عبدالعزیز کے اہلخانہ بھی اُن کے ساتھ رہ رہے تھے۔

لال مسجد کے سابق خطیب کے وکیل کا کہنا ہے کہ قانونی کارروائی پوری کرنے کے بعد دو روز میں رہا کردیا جائے گا۔