’ممبئی حملہ آوروں کی مدد کی‘

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
ممبئی حملوں کے الزام میں گرفتار ہونے والے ایک ملزم شاہد جمیل ریاض نے راولپنڈی میں سپیشل جوڈیشل مجسٹریٹ ایم مسعود جنجوعہ کے سامنے اپنے اقبالی بیان میں اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے ممبئی حملوں کی سازش میں ملوث افراد کو سہولتیں باہم پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
یہ بات اس مقدمے کے تفتیشی ٹیم میں شامل ایک اہلکار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہی۔
ملزم شاہد جمیل ریاض کو بدھ کے روز سپیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا جنہوں نے ایک گھنٹے تک اپنا اقبالی بیان ریکارڈ کروایا جس کے بعد ایف آئی اے کے اہلکاروں نے اُنہیں جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل منتقل کردیا۔
ملزم شاہد جمیل ریاض کا صوبہ پنجاب کے جنوبی شہر بہاولپور سے بتایا جاتا ہے جس کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فروری کے آخری ہفتے میں گرفتار کیا تھا بعدازاں داخلہ امور کے بارے میں وزیر اعظم کے مشیر رحمان ملک نے پیر کے روز ملزم شاہد جمیل ریاض کی گرفتاری کے بارے میں ایک پریس کانفرنس کی۔
رحمان ملک نے گرفتار کیے جانے والے شخص کے بارے میں مزید کچھ بتانے سےگریز کرتے ہوئے کہا کہ ’ملزم شاہد جمیل نے ممبئی میں دہشت گردی کے لیے جانے والے ملزمان کے ساتھ مل کر کراچی میں منصوبہ بندی کی تھی اور اس کے علاوہ علاوہ ممبئی حملوں کے حوالے سے بینک اکاؤنٹ بنانے میں مدد فراہم کی تھی‘۔
اس سے پہلے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے ممبئی واقعہ کی سازش میں ملوث چار ملزمان اڈیالہ جیل میں قید ہیں ان میں مولانا ذکی الرحمن لکھوی، مظہر اقبال، حماد امین صادق اور عبدالواجد شامل ہیں۔
ان گرفتار ہونے والے افراد کے خلاف مقدمے کی پیروری کرنے والے وکیل شہباز راجپوت کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایف آئی اے کے اہلکاروں نے شاہد جمیل ریاض سے اقبالی بیان لیا ہے لیکن اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقبالی بیان زبردستی لیا گیا ہے اور جب ان کے مقدمے کی سماعت شروع ہو گی تو وہ اس اقبالی بیان کو چیلنج کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کہ یہ اقبالی بیان اُسی طرح کا ہے جس طرح کا اقبالی بیان سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں گرفتار ہونے والے ملزمان سے لیا گیا تھا جنہوں نے اس مقدمے کے سماعت کے دوران ملزمان اس اقبالی بیان سے انکاری تھے۔انہوں نے کہا کہ اُنہیں ان کے مؤکلوں تک رسائی کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی






















