احتساب، نیا بل قومی اسمبلی میں

اس نئے قانون کا نام سرکاری عہدیداران احتساب بل دو ہزار نو رکھا گیا ہے
،تصویر کا کیپشناس نئے قانون کا نام سرکاری عہدیداران احتساب بل دو ہزار نو رکھا گیا ہے
    • مصنف, آصف فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

حکومت پاکستان نے ملک میں احتساب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے روکنے کی غرض سے ایک نئے قانون کو منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کیا ہے جسکے تحت احتساب کے ادارے کا سربراہ صرف ایسا فرد ہو سکے گا جو سپریم کورٹ کا جج ہو، رہ چکا ہو یا بننے کا اہل ہو۔

نئے قانون میں اس عہدے کے لیے فوجی جرنیل یا حکمران جماعت کے رکن کی تقرری پر پابندی ہو گی۔

قومی اسمبلی میں یہ بل پیش کرتے ہوئے پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر بابر اعوان نے کہا کہ اس قانون کی منظوری سے ملک میں احتساب کے عمل سے انتقام علیحدہ ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے جتنے بھی احتساب کے قوانین بنے، انہیں صرف سیاستدانوں کی وفاداریاں تبدیل کرنے اور اس میں ناکامی پر ان کے خلاف انتقامی کارروائیاں کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔

واضح رہے کہ انسداد بد عنوانی کے نام پر نئے احتسابی ادارے کا قیام گزشتہ دو دہائیوں میں ایک ایسی سیاسی روایت کی صورت اختیار کر چکا ہے جس پر ہر نئی حکومت پابندی سے عمل کرتی ہے۔

پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر بابر اعوان نے بتایا کہ اس نئے قانون کا نام سرکاری عہدیداران احتساب بل دو ہزار نو رکھا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس قانون پر غور کرنے کے لیے جو کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اس میں حزب اختلاف اور اقتدار کے ارکان کی تعداد مساوی رکھی گئی ہے تاکہ حکومت اس بل کو عددی برتری کی بنیاد پر منظور کروانے کی کوشش نہ کرے۔

بابر اعوان نے مجوزہ نئے قانون کے بعض نکات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ اس قانون کے تحت احستاب کے ادارے کا سربراہ سپریم کورٹ کا موجودہ یا ریٹائرڈ جج ہوگا اور اسکی عہدے سے برطرفی کے لیے بھی صرف آئینی طریقے سے ممکن ہو گی اور اسکے لیے سپریم کورٹ کے جج کی برطرفی والا قانون لاگو ہوگا۔

بابر اعوان نے کہا کہ پرویز مشرف کے دور میں بننے والے احتساب قانون کی اس شق میں ترمیم کر دی گئی ہے جس کے ذریعے ’پلی بارگین‘ کے نام پر قومی خزانہ لوٹنے والوں سے کمیشن لیا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اب ملزمان سے رضا کارانہ طور پر ملنے والی پوری رقم براہ راست سرکاری خزانے میں جائیگی اور اس میں سے احستاب کے ادارے کو کمیشن نہیں دیا جائیگا۔

بابر اعوان نے کہا اس قانون کے تحت درج ہونے والے مقدمات کھلی عدالتوں میں چلائے جائیں گے اور ملزمان کو مقدمات کے سلسلے میں دوسرے صوبے میں نہیں لیجایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان مقدمات کی سماعت کے لیے ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی نگرانی میں عام جج مقرر کیے جائیں گے اور اس مقصد کے لیے اٹک قلعے اور اس طرح کے دیگر قید خانوں میں خصوص عدالتیں نہیں لگائی جائیں گی۔

قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے کے بعد اب یہ بل قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کے سپرد کیا جائیگا جہاں سے منظور شدہ شکل میں اسے قانون کی حیثیت دینے سے قبل ایوان بالا یا سینیٹ کی منظوری لی جائیگی۔