مالاکنڈ ڈویژن میں نظام عدل نافذ

مالاکنڈ ڈویژن میں پہلے بھی شرعی نظام نافذ رہا ہے
،تصویر کا کیپشنمالاکنڈ ڈویژن میں پہلے بھی شرعی نظام نافذ رہا ہے
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

صوبہ سرحد کے گورنر اویس احمد غنی نے شرعی نظام عدل دوہزار نو کے ترمیمی مسودے پر دستخط کردیئے ہیں جس کے تحت مالاکنڈ ڈویژن میں شرعی نظام عدل عملی طورپر نافذ ہوگیا ہے۔

اس سلسلے میں بدھ کو گورنر ہاؤس پشاور میں ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں گورنر اویس احمد غنی نے وزیر اعلی سرحد امیر حیدر خان ہوتی کی موجودگی میں نظام عدل ریگولیشن کے مسودے پر دستخط کئے۔

اس موقع پر صحافیوں سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلی سرحد امیر حیدر خان نے کہا کہ شرعی نظام عدل پر فوری عمل درآمد کےسلسلے میں ایک ٹاسک فورس کو پہلے ہی سوات بھیجا جاچکا ہے جو اس وقت وہاں اس قانون کو اس کی اصل روح میں نافذ کرنے کے حوالے سے متعلقہ حکام سے صلاح و مشورے کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ اس نئے عدالتی نظام کو جتنا جلدی ممکن ہوسکے نافذ کرایا جائے تاکہ یہ مالاکنڈ ڈویژن کے عوام کو نظر آئے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ حکومت کوئی نیا متوازی عدالتی نظام نافذ نہیں کررہی ہے بلکہ شرعی نظام پہلے بھی مالاکنڈ ڈویژن میں رائج رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شرعی نظام کے نفاذ کا فیصلہ کسی فردِ واحد یا پارٹی کا نہیں ہے بلکہ پارلیمنٹ نے اس قانون کو منظور کیا ہے اور اسے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔

وزیراعلی کا کہنا تھا کہ آج کا دن مالاکنڈ ڈیژن کے عوام کےلیے ایک تاریخ ساز دن ہے جو ساری زندگی یاد رکھا جائے گا۔

گورنر سرحد اویس احمد غنی نے کہا کہ نظام عدل تو نافذ ہوگیا تاہم ابھی قاضی عدالتوں کےلیے قواعد و ضوابط طے کرنے کا ایک اہم مرحلہ باقی ہے جسے اتفاق رائے اور مشاروت سے طے کرلیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ شرعی عدالتوں کے معاملات کو حل کرانے کےلیے ایک مستقل ٹاسک فورس بنائی گئی ہے جو وقتاً فوقتاً ان عدالتوں کے حوالے سے پیدا شدہ مسائل کو حل کراتا رہے گا۔

تقریب میں صوبہ سرحد میں مخلوط حکومت میں شامل پیپلز پارٹی کے راہنما اور صوبائی وزراء بھی موجود تھے۔

واضح رہے کہ دو دن پہلے پاکستان کی پارلیمان نے مالاکنڈ ڈویژن میں نظام عدل ریگولیشن دو ہزار نو کی حمایت میں ایک قرارداد منظور کی تھی جس کے بعد صدر آصف علی زرداری نے اس ترمیمی مسودے پر دستخط کردیئے تھے۔

صوبائی حکومت کے مطابق اس قانون کے تحت مالاکنڈ ڈویژن میں دو اپیلیٹ پینچیں دارالقضاء اور دار لدارا لقضاء تشکیل دیئے جائیں گی جس کے اختیارات ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے برابر تصور کئے جائیں اور جس کے فیصلے حتمی تصور کئے جائیں گے۔