چارسدہ: ہلاکتیں انیس، ایک’ملزم‘ گرفتار

خودکش حملے کا نشانہ پولیس اہلکار تھے
،تصویر کا کیپشنخودکش حملے کا نشانہ پولیس اہلکار تھے
    • مصنف, عبدالحئی کاکڑ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

صوبہ سرحد کے ضلع چارسدہ میں پولیس نے سوات سے تعلق رکھنے والے ایک زخمی نوجوان کو بدھ کی رات ہونے والے خودکش حملے میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔

دوسری طرف ایک اور زخمی کی ہلاکت کے بعد مرنے والوں کی تعداد انیس ہوگئی ہے جنہیں جمعرات کو سپردِ خاک کر دیا گیا ہے۔

چارسدہ کے پولیس سربراہ ریاض خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعوٰی کیا کہ پولیس نے کل رات کو ہی جائے وقوعہ پر ایک نوجوان کو زخمی حالت میں گرفتار کیا تھا۔ انہوں نے نوجوان کا نام شاہ خالد اور تعلق سوات میں طالبان کا گڑھ سمجھے جانے والے چہارباغ کے علاقے سے بتایا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نوجوان پر شک ہے کہ وہ بارود سے بھری گاڑی میں سوار ایک مبینہ خودکش بمبار کی نگرانی کررہا رہا تھا۔ ان کے بقول تفتیش کے مطابق حملے کے وقت ہری چند چیک پوسٹ پر دو گاڑیاں ملاکنڈ ایجنسی کی طرف سے آئی تھیں جن میں خودکش بمبار کی گاڑی کے آگے گرفتار ہونے والے زخمی نوجوان کی گاڑی آرہی تھی۔

ان کے مطابق پولیس نے جونہی شاہ خالد نامی اس نوجوان کی گاڑی روکی تو پیچھےسے آنے والی خودکش بمبار نے اپنی گاڑ ی دھماکے کے ساتھ اڑادی جس میں آگے کی گاڑی میں بیٹھا نوجوان زخمی ہوگیا۔

پولیس سربراہ کے مطابق اس نوجوان کے پیر میں زخم آیا ہے لیکن وہ مکمل ہوش و حواس میں ہے اور اس نے حملے میں ملوث ہونے کا اعتراف تو نہیں کیا البتہ انہوں نے مرنے والے ایک شخص کے بارے میں کہا کہ وہ اس کا ساتھی ہے۔ ان کے مطابق یہ معلوم نہیں ہورہا کہ وہ جس شحص کو اپنا ساتھی کہہ رہا ہے وہ خودکش بمبار یا کوئی راہ گیر ہے۔ریاض خان کا مزید کہناہے کہ پولیس ملزم سے تحقیقات کررہی ہے اور ابتدائی تفتیش کی بنیاد پر وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ اس حملے میں گرفتار ہونے والوں نوجوان واقعی ملوث ہے۔