’ہماری تنخواہ بھی دگنی کرو‘

شہباز شریف
،تصویر کا کیپشنوزیر اعلٰی پنجاب نے پنجاب پولیس کے اہلکاروں کی تنخواہ تقریباًً دوگنی کی ہے
    • مصنف, علی سلمان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
  • وقت اشاعت

لاہور اور گوجرانوالہ میں محکمہ جیل کے اہلکاروں نے تنخواہوں میں اضافے کے لیے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں ان کا مطالبہ ہے کہ پنجاب پولیس کی طرح ان کی تنخواہیں بھی بڑھائی جائیں۔

لاہور میں جیل پولیس کے باوردی اہلکاروں نے کیمپ جیل کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور ٹائر جلا کر ٹریفک بلاک کردی مظاہرین نے نعرے بازی کی۔ ان کا کہنا ہے کہ پنجاب کی جیلوں کے انیس ہزار اہلکار بھی انہی معاشی مسائل کا شکار ہیں جو باقی پولیس فورس کو درپیش ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ان کی تنخواہوں میں اضافہ نہ کیا گیا تو وہ احتجاج کو دائرے کو پھیلائیں گے اور جیل سے قیدیوں کو عدالت پیش نہیں کیاجائے گا۔ جیل کے اعلٰی حکام کے سمجھانے پر مظاہرین واپس جیل ڈیوٹی پر چلے گئے۔

وزیر اعلٰی پنجاب شہباز شریف نے پنجاب پولیس کے اہلکاروں کی اجرت میں دیگر مراعات میں اضافہ کے علاوہ رسک الاؤنس شامل کیا ہے جس سے ان کی ان کی ماہوار تنخواہ تقریباًً دوگنا ہوگئی ہے۔

گوجرنوالہ میں سینٹرل جیل سے باوردی جیل پولیس اہلکاروں نے ایک جلوس نکالا۔ اس جلوس کی قیادت ایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ نے کی۔ مظاہرین نے نعرے لگائے کہ ’ہمیں انصاف دو، پنجاب پولیس کے برابر تنخواہ دو‘۔

مظاہرین کاکہنا ہے کہ پنجاب پولیس کے عام سپاہی کی تنخواہ بھی جیل کے اعلٰی افسر کی تنخواہ سے بڑھ چکی ہے۔

مظاہرین نے گوجرانوالہ سیالکوٹ روڈ پر رکاوٹیں کھڑی کرکے ٹریفک بلاک کردی جس سے گاڑیوں کی لمبی لائینیں لگ گئیں۔ایک گھنٹے کے بعد مظاہرین واپس اپنی ڈیوٹیوں پر چلے گئے۔

پنجاب پولیس کی تنخواہوں میں حالیہ اس برس یکم اپریل سے نافذ العمل ہے اور اس سے حکومت کو سالانہ آٹھ ارب روپے اضافی خرچ کرنا پڑیں گے۔

وزیر اعلٰی پنجاب کے بقول اب پولیس کے ایک عام سپاہی کی تنخواہ ہاؤس جاب کرنے والے ڈاکٹر کے معاوضے کے برابر ہوگئی ہے۔یاد رہے کہ ہاؤس جاب کرنے والے ڈاکٹر پہلے ہی اپنے کم معاوضے اور ملازمت کی شرائط پر احتجاج کرچکے ہیں لیکن انہیں فوجداری مقدمات اور گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

پنجاب پولیس کی تنخواہوں میں اضافے کے بعد اساتذہ سمیت مختلف سرکاری محکموں کے ملازمین بھی اپنی اجرت میں اضافہ کا مطالبہ کررہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سابقہ برسوں کے مقابلہ میں حالیہ سال کے دوران مہنگائی میں غیر معمولی اضافہ ہے۔غریب اور نچلے متوسط طبقے کے روز مرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتیں تیس فی صد تک بڑھی ہیں۔اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ کم تنخواہ دار طبقہ مہنگائی کی حالیہ لہر کا براہ راست نشانہ بنا ہے۔