’ ڈرون حملے بند ہونے چاہیئں‘

قومی اسمبلی
،تصویر کا کیپشنکمیٹی میں سب ہی جماعتوں کے نمائندے شامل ہیں
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

قومی سلامتی کے بارے میں پارلیمنٹ کی متفقہ کمیٹی نے اپنی سفارشات میں کہا ہے کہ پاکستانی حدود میں امریکی جاسوس طیاروں کے حملے پاکستان کی سالمیت پر حملہ ہے جسے کسی طور پر بھی برداشت نہیں کیا جائے گا۔ سفارشات میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر یہ حملے جاری رہتے ہیں تو پھر حکومت ملکی سالمیت کو محفوظ بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

قومی سلامتی کے بارے میں پارلیمنٹ کی متفقہ کمیٹی کی سفارشات پر مبنی رپورٹ قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیش کی گئی ہے۔ سینیٹر رضا ربانی کی سربراہی میں بننے والی پارلیمنٹ کی متفقہ کمیٹی نے یہ سفارشات مرتب کی ہیں۔

کمیٹی کی سفارشات میں کہا گیا ہے کہ حکومت کو ملکی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیےدو ٹوک رویہ اپنانا چاہیے اور نئی امریکی انتظامیہ سینیٹ ، کانگرس کے ارکان کے علاوہ پینٹاگان کے ذمہ دار افراد سے بات چیت کرنی چاہیے اور اُنہیں اس بات پر آمادہ کریں کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں اور پاکستان کی سرزمین پر جاسوس طیاروں کے حملے بند کر دیں۔

کمیٹی نے اپنی سفارشات میں یہ بھی کہا ہے کہ حکومت ملکی سرزمین پر شدت پسندوں کے تربیتی کیمپ اور اُن کے ٹھکانوں کو ختم کرے۔ اس کے علاوہ جو قبائل ایسے شدت پسندوں کو پناہ دے رہے ہیں اُن کی نشاندہی کی جائے۔

کمیٹی نے اپنی سفارشات میں کہا ہے کہ ایسے قبائل کے بااثر افراد کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں اور اُنہیں اس بات پر آمادہ کیا جائے کہ وہ غیر ملکی شدت پسندوں سے علیحدہ ہو جائیں۔

کمیٹی کی سفارشات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومت وزارت دفاع، وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ کو ہدایات جاری کرے کہ وہ انسداد دہشت گردی کے حوالے سے پالیسیوں کا جائزہ لے اور ایسی پالیسیاں مرتب کرے جس سے شدت پسندوں کے ساتھ موثر طریقے سے نمٹا جا سکے۔

کمیٹی نے اپنی سفارشات میں کہا ہے کہ انسداد دہشت گردی کے قوانین کو مزید موثر بنایا جائے اور اس ضمن میں ان مقدمات کے گواہوں اور عدالتوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

کمیٹی کے ارکان نے اپنی سفارشات میں یہ بھی کہا ہے کہ جو علاقے شدت پسندی سے متاثر ہیں وہاں پر سازگار ماحول پیدا کیا جائے اور حکومت ان علاقوں میں پائیدار امن کو یقینا بنانے کے لیے اپنی پالیسیوں میں تسلسل برقرار رکھے۔ اور جب وہاں پر امن قائم ہوجائے تو وہاں سے فوج کو فوری طور پر نکال دیا جائے اور علاقے کا انتظام سول انتظامیہ کے حوالے کردیا جائے۔

سفارشات میں مزید کہا گیا ہے کہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں رائج ایف سی آر کے قانون کو تبدیل کیا جائے اور اُس میں ایسی ترامیم لائی جائیں جو کہ ملکی آئین او ر وہاں کے لوگوں کی خواہشات کے مطابق ہوں۔

مالاکنڈ ڈویژن میں نفاذ عدل ریگولیشن کے بارے میں کمیٹی نے اپنی متفقہ قرارداد میں کہا ہے کہ وہاں پر اس نظام کو فوری طور پر رائج کیا جائے اور اس علاقے میں دیرپا امن کے قیام کے سلسلے میں مذاکرات شروع کیے جائیں۔ واضح رہے کہ پارلیمنٹ کی اس متفقہ کمیٹی میں متحدہ قومی موومنٹ کے رکن قومی اسمبلی حیدر رضوی بھی شامل تھے اور اب ایم کیو ایم اس ریگولیشن کی مخالفت کر رہی ہے۔ قومی اسمبلی میں جب یہ بل پیش کیا گیا تو ایم کیو ایم نے نہ تو اس کی مخالفت کی تھی اور نہ ہی اس کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

کمیٹی نے اپنی سفارشات میں کہا ہے کہ بلوچستان کی عوام کو درپیش مسائل کے حل کےلیے اُن کے ساتھ بھی سیاسی سطح پر مذاکرات کیے جائیں اور ایسے افراد کی فوری طور پر دوبارہ آبادکاری کی جائے جو بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال خراب ہونے کی وجہ سے اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ سفارشات میں کہا گیا ہے کہ تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے اور لاپتہ ہونے والے افراد کا سراغ لگایا جائے۔

قومی سلامتی کی اس کمیٹی میں رضا ربانی کے علاوہ پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر بابر اعوان، شیری رحمان، سینیٹر اسحاق ڈار، سردار مہتاب احمد خان، سنیٹیر وسیم سجاد، حیدر عباس رضوی، عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی، کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمن، منیر خان اروکزئی، جماعت اسلامی کے پروفیسر خورشید احمد، عبدالرزاق تھیم، سابق وزیر داخلہ افتاب احمد خان شیرپاؤ، عبدالرحیم مندوخیل، میر اسرر اللہ زہری اور شاہد حسن بگٹی شامل ہیں۔