ایک ارب ڈالر کی امداد کا وعدہ

آصف زرداری
،تصویر کا کیپشنآصف زرداری نے جاپان حکومت کا شکریہ ادا کیا ہے
وقت اشاعت

جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں آج فرینڈز آف پاکستان گروپ کا اجلاس ہو رہا ہے جس میں پاکستان کو امداد دینے والے تیس ملک شرکت کر رہے ہیں۔

شدید معاشی اور اقتصادی مشکلات سے دو چار پاکستان کو توقع ہے کہ اجلاس میں آئندہ دو برس کے لیے چھ ارب ڈالر سے زائد کے امداد مل سکے گی۔

پاکستان کے صدر آصف زرداری بھی اس کانفرنس کے لیے جاپان میں ہیں۔ گزشتہ روز ان سے ملاقات میں جاپان کے وزیراعظم تارو آسو نے پاکستان کے لیے ایک ارب ڈالر کی امداد کا اعلان کیا تھا۔ ان کے مطابق خطے اور خصوصاً پاکستان میں استحکام جاپان کے لیے بہت اہم ہے۔ اس گروپ میں پاکستان کے روایتی حلیفوں چین ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات سمیت امریکہ اور کئی مغربی ملک شامل ہیں۔

اس کانفرنس میں پاکستان ملک میں معاشی ترقی اور اصلاحات کے منصوبے پیش کرے گا۔

گزشتہ برس پاکستان توازن ادائیگی کے ایک سنگین بحران سے اس وقت بال بال بچا تھا جب عالمی مالیاتی فنڈ نے اس کے لیے سخت شرائط پر ساڑھے سات ارب ڈالر سے زائد کا خصوصی قرض منظور کیا تھا۔

پاکستان کے حوالے سے ایک تشویش یہ بھی پائی جاتی ہے کہ جوہری ہتھیاروں سے مسلح پاکستان میں معاشی ابتری سے انتہا پسند حلقوں کی حمایت میں اضافہ ہوگا۔ ساتھ ہی پاکستان ملک کے شمال میں اور قبائلی علاقوں میں شدت پسندی کے خاتمے کے لیے بھی اپنی حکمت عملی پر کانفرنس کے رکن ملکوں کو اعتماد میں لے گا۔

انتہائی لاقانونیت میں مبتلا شمالی پاکستان سے بہت سے طالبان جنگجو خطے میں کارروائیاں کرتے ہیں۔ طالبان نے پاکستان میں بہت سے خودکش حملے بھی کیے ہیں اور وہ روز بروز دھڑلے کے ساتھ ریاستی عملداری کو چیلنج کر رہے ہیں۔ عالمی دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے کردار کے ہی تناظر میں گزشتہ روز پاکستانی وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے ٹوکیو میں کہا تھا کہ کہ پاکستان دہشت گردی کے حلاف جدوجہد میں اپنے صف اول کے کردار کے اعتراف میں عالمی برادری سے مددگار یکجہتی کا اظہار چاہتا ہے۔