ٹوکیو کانفرنس، امداد توقع سے زیادہ

جاپان میں فرینڈز آف پاکستان گروپ کے اجلاس میں پاکستان کے لیے پانچ ارب ڈالر سے زائد کی امداد کے وعدے کیے گئے ہیں۔
ٹوکیو میں ہونے والے ایک روزہ اجلاس کے اختتام پر جاری کیے جانے والے بیان میں کانفرنس کے مشترکہ صدر جاپان اور عالمی بینک نے کہا ہے کہ ’ پاکستان کے دوستوں نے پانچ ارب ڈالر سے زائد کی نئی امداد کے وعدے کیے ہیں جو آئندہ دو برس کے دوران دی جائے گی‘۔
کانفرس سے قبل میزبان ملک جاپان اور امریکہ نے پاکستان کے لیے ایک، ایک ارب ڈالر کی امداد کا اعلان کیا تھا جبکہ کانفرنس کے دوران سعودی عرب نے ستّر، ایران نے تینتیس جبکہ ترکی نے دس کروڑ ڈالر کی امداد کے وعدے کیے ہیں۔
ٹوکیو میں ہونے والے اس اجلاس کو عالمی بینک کی حمایت تھی اور اس میں پاکستان کو امداد دینے والے تیس ممالک نے شرکت کی۔ اس گروپ میں پاکستان کے روایتی حلیف چین، سعودی عرب، ایران اور متحدہ عرب امارات کے علاوہ امریکہ اور کئی مغربی ملک بھی شامل ہیں۔ اس اجلاس میں شدید معاشی اور اقتصادی مشکلات سے دو چار پاکستان کو توقع سے زائد امداد ملی ہے۔گزشتہ برس پاکستان توازن ادائیگی کے ایک سنگین بحران سے اس وقت بال بال بچا تھا جب عالمی مالیاتی فنڈ نے اس کے لیے سخت شرائط پر ساڑھے سات ارب ڈالر سے زائد کا خصوصی قرض منظور کیا تھا۔
امریکہ کی جانب سے اعلان کردہ ایک ارب ڈالر کی امداد کانگریس کی منظوری سے مشروط ہو گی اور یہ امداد دو برس کے دورانیے میں دی جائے گی۔ امریکی محکمۂ خارجہ کے یرجمان رابرٹ وڈ کے مطابق اس امداد کا اعلان امریکی ایلچی برائے افغانستان و پاکستان رچرڈ ہارلبروک نے بند کمرے میں ہونے والے ایک اجلاس میں کیا۔ ان کے مطابق یہ ایک ارب ڈالر دراصل اس ڈیڑھ ارب ڈالر سالانہ امداد کی ابتدائی قسط ہے جس کی آنے والے پانچ برس تک فراہمی کا وعدہ امریکہ نے پاکستان سے کیا ہے۔
جمعرات کو کانفرنس سے قبل پاکستان کے صدر آصف زرداری سے ملاقات میں جاپان کے وزیراعظم تارو آسو نے پاکستان کے لیے ایک ارب ڈالر کی امداد کا اعلان کیا تھا۔ ڈونر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جاپان کے وزیراعظم نے کہا کہ ’جب تک پاکستان مستحکم نہیں ہو جاتا اس وقت تک افغانستان میں بھی استحکام نہیں آ سکتا‘۔ انہوں نے کہا کہ خطے اور خصوصاً پاکستان میں استحکام جاپان کے لیے بہت اہم ہے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے صدر آصف زرداری کا کہنا تھا کہ انہیں خدشہ ہے کہ دنیا پاکستان کو درپیش خطرات کا ادراک نہیں کر رہی۔ انہوں نے کہا کہ ’ ہم لڑنے کو تیار ہیں اور میں مکمل امید اور انکساری کے ساتھ دنیا سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس بڑی مشکل سے نمٹنے میں ہماری مدد کریں اور اس مشکل کا سامنا صرف ہمیں ہی نہیں ہے‘۔ آصف زرداری کا کہنا تھا کہ ’ اگر ہم شکست کھاتے ہیں تو یہ آپ کی شکست ہے، دنیا کی شکست ہے‘۔خیال رہے کہ پاکستان کے حوالے سے اقوامِ عالم میں ایک تشویش یہ بھی پائی جاتی ہے کہ جوہری ہتھیاروں سے مسلح پاکستان میں معاشی ابتری سے انتہا پسند حلقوں کی حمایت میں اضافہ ہوگا۔
کانفرنس کے اختتام پر ایک اعلامیہ بھی جاری کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے دوست اور اتحادی اس کی اقتصادی اصلاحات کے لیے کی جانے والی کوششوں کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ اعلامیہ میں پاکستان کی جانب سے پیش کیے جانے والے منصوبوں کی منظوری بھی دی گئی۔ پاکستان نے اس کانفرنس میں آنے والے دس برس میں پورے ہونے والے تیس ارب ڈالر مالیت کے منصوبے پیش کیے ہیں۔ اعلامیے کے مطابق اس گروپ کا اگلا اجلاس ترکی میں ہوگا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ جون سنہ دو ہزار نو میں ختم ہونے والے مالی سال کے لیے پاکستان میں شرحِ ترقی کا تخمینہ ڈھائی سے ساڑھے تین فیصد کے درمیان لگایا گیا ہے جو کہ ساڑھے پانچ فیصد کے ابتدائی اندازوں سے کہیں کم ہے۔






















