سوات میں شریعت پر دنیا کی تشویش

حسین ہارون
،تصویر کا کیپشنقبائلی علاقوں میں ڈرونز حملے ایسے علاقے میں ہو رہے ہیں جو ابھی متنازعہ ہیں
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
  • وقت اشاعت

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندہ حسین ہارون کا کہنا ہے کہ سوات میں شریعت کے نفاذ اور بلوچستان کےحالات پر عالمی برداری کو تشویش ہے۔

حسین ہارون نے کراچی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب پاکستان عالمی دنیا سے اتنا تعاون مانگ رہا ہے تو اسے ایسے طریقے کار اختیار کرنا چاہیے جس سے دنیا مطمئن ہو۔ انہوں نے کہا کہ مالا کنڈ ڈویژن میں شرعی نظام کے حوالے سے عالمی برداری نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کو بتایاگیا ہے کہ اسی فیصد قوانین ملکی قانون کے ڈھانچے کا حصہ ہیں اور یہ قوانین انیس سوستر تک سوات میں لاگو تھے اور اب بھی بلوچستان کے قلات ڈویژن میں قوانین کام کر رہے ہیں۔

حسین ہارون نے کہا دنیا خود کش بم دھماکوں کے بارے میں سیاستدانوں کے رویے پرحیرت کا اظہار کرتی ہے کیونکہ سیاستدان ان دھماکوں مذمت کرتے ہیں اور ان اقدامات کی مخالفت یا مزاحمت نہیں کرتے۔ قبائلی علاقوں میں امریکی طیاروں کے حملوں کے بارے میں حسین ہارون کا کہنا تھا کہ یہ حملے سرحد پر ہو رہے ہیں جس پر فاٹا اور ڈیورنڈ لائن بھی ہے اور یہ دو طرفہ مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب حکومت پاکستان حکم کرے گی، تو وہ اس مسئلے کو آگے بڑھائیں گے۔

بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے بارے میں حسین ہارون نے کہا کہ مارک کوٹ مین کی قیادت میں ماہرین کی ٹیم آئی تھی، اب تین رکنی کمیشن آئےگا۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی تحقیقاتی ٹیم کی موجودگی میں سوات کا مسئلہ ہوا، چارسدہ اور بونیر پر طالبان کے کنٹرول کی باتیں ہوئیں۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی ٹیم کا موقف تھا کہ بونیر اسلام آباد سے صرف ایک سو میل دور ہے اور انہوں نے سکیورٹی پر خدشات کا اظہار کیا۔’انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی ٹیم نے کہا کہ کہیں ایسا نہ ہو ہم اسلام آباد میں بیٹھے ہوں اور کوئی واقعہ ہوجائے۔‘

حسین ہارون نے کہا کہ ’اقوام متحدہ کی ٹیم کو مکمل یقین دہانی کرائی گئی ہے اب کمیشن کو جلد بھیجنے کی کوشش کریں گے۔‘

انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ کے اہلکار جان سولیکی کے اغوا اور رہائی کے بعد بلوچستان کے واقعات پر بھی عالمی دنیا کو تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری فیصلوں کی وجہ سے دنیا کی نظروں میں بہتر کیا تھا لیکن اب پھر عالمی برداری شش و پنج کا شکار ہے۔ حسین ہارون کا سرکریک کے حوالے سے کہنا تھا کہ پاکستان کی طرف سے مطلوبہ دستاویزات جمع کرا دیئے ہیں اور پاکستان نے متنازعہ علاقے پر اپنا حق ملکیت برقرار رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت جس علاقے کے لیے پاکستان سے جھگڑا کر رہا ہے اس میں وہ علاقہ بھی شامل ہے جہاں ہمیں شک ہے کہ تیل اور گیس کے بڑے ذخائر موجود ہیں اور بھارت ان ذخائر پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ میں چار ملک گروپ بنا کر سلامتی کونسل میں مستقل نشست حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں پاکستان ان کی مخالفت کر رہا ہے۔

ہمارا موقف ہے کہ اگر چالیس سال قبل اقوام متحدہ کو بناتے وقت پانچ ایسی نشتیں بنائی گئیں اب دوبارہ یہ غلطی نہیں کرنا چاہیئے، مستقل نشستیں ملکوں کے نام نہیں بلکہ خطوں کے حوالے سے ہونی چاہئیں اور ہر ملک کو اس کا موقعہ ملنا چاہئیے

’ہم کسی ایک ملک کے خلاف نہیں ہیں۔ بھارت نے ابھی تک جوہری ہتھیاروں کے عدم پھلاؤ کے معاہدے این پی ٹی پر دستخط نہیں کیا ہے اس لیئے اسے اس پر بیٹھنے کا کوئی حق نہیں ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ان سے پاکستان کے مستقبل کے بارے میں سوال کیے جاتے ہیں وہ انہیں بتاتے ہیں کہ پاکستان کا مستقبل یقینی ہے مگر اس وقت جو مالی مشکلات ہیں اس میں سہارے کی ضرورت ہے۔