’پندرہ ماہ میں تیرہ سو پچانوے ہلاکتیں‘

- مصنف, اعجاز مہر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
پاکستان حکومت نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ گزشتہ پندرہ ماہ کے دوران ملک میں اٹھارہ سو بیالیس دہشت گردی کے واقعات میں تیرہ سو پچانوے افراد ہلاک ہوئے جن کے لواحقین کو حکومت نے بتیس کروڑ پندرہ لاکھ روپوں سے زائد رقم معاوضے کے طور پر ادا کی۔
وقفہ سوالات کے دوران جمعہ کے روز رکن قومی اسمبلی نگہت پروین میر کے پوچھے گئے سوال کا تحریری پیش کردہ جواب میں وزارت داخلہ نے بتایا ہے کہ جنوری سنہ ہزار آٹھ سے مارچ سنہ دو ہزار نو تک سب سے زیادہ دہشت گردی کے واقعات صوبہ بلوچستان میں ہوئے لیکن سب سے زیادہ ہلاکتیں صوبہ سرحد میں ہوئیں۔
ملک میں ہونے والی دہشت گردی کے بارے میں پہلی بار اتنی جامع معلومات قومی اسمبلی میں پیش کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ پندرہ ماہ میں دہشت گردی کے ان واقعات میں دو ارب چھیاسی کروڑ سولہ لاکھ روپوں سے زیادہ مالیت کا املاک کو نقصان پہنچا۔ اس تخمینے میں پنجاب میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعات کا نقصان شامل نہیں ہے کیونکہ صوبائی حکومت ابھی اس کا اندازہ لگا رہی ہے۔
وزارت داخلہ کے مطابق صوبہ بلوچستان میں گیارہ سو بائیس دہشت گردی کے واقعات میں چار سو چھتیس افراد مارے گئے اور نو کروڑ پچانوے لاکھ روپوں کی مالیت کا املاک کو نقصان پہنچا۔ حکومت کے مطابق بلوچستان میں مرنے والوں کے لواحقین کو چار کروڑ ساٹھ لاکھ روپے ادا کیے گئے۔
صوبہ سرحد میں چھ سو بانوے دہشت گردی کے واقعات میں سات سو بتیس افراد ہلاک ہوئے، دو ارب اڑسٹھ کروڑ کی املاک کو نقصان پہنچا اور تیرہ کروڑ پچانوے لاکھ روپے لواحقین کو معاوضہ ادا کیا گیا۔
صوبہ پنجاب میں دہشت گردی کے بارہ واقعات میں ایک سو انیس افراد مارے گئے اور ان کے لواحقین دس کروڑ انتیس لاکھ روپوں کا معاوضہ ادا کیا گیا۔ پنجاب میں متاثرین کو ساڑھے چوالیس لاکھ روپے مزید معاوضہ ادا کرنے کی منظوری دی جا رہی ہے۔
صوبہ سندھ میں دہشت گردی کے نو واقعات میں اکیس لوگ مارے گئے اور صوبائی حکومت نے ان کے لواحقین کو سڑسٹھ لاکھ روپے ادا کیے اور سندھ میں پچاس لاکھ کی مالیت کا املاک کو نقصان پہنچا۔
وزارت داخلہ کے مطابق اسلام آباد میں سات دہشت گردی کے واقعات میں ستاسی افراد مارے گئے اور اسلام آباد انتظامیہ نے ان کے لواحقین کو دو کروڑ اسی لاکھ روپے معاوضہ ادا کیا اور سوا کروڑ روپے مالیت کی املاک کو نقصان پہنچا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکومت نے کہا ہے کہ بدامنی اور دہشت گردی کی روک تھام کے لیے حکومت نے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں، جس میں پولیس کے گشت میں اضافہ، اہم تنصیبات، وفاقی دارالحکومت اور چاروں صوبوں کے صدر مقامات کے داخلی اور خارجی راستوں پر کلوز سرکٹ کیمرے نصب کرنا، سادہ کپڑوں میں اہلکاروں کی تعیناتی میں اضافہ اور پولیس کو انسداد دہشت گردی کی تربیت دینا شامل ہیں۔
وزارت داخلہ نے بیگم نزہت صادق کے سوال کے جواب میں ایوان کو بتایا ہے کہ رواں سال تک ملک کی مختلف جیلوں میں چھ ہزار سے زیادہ غیر ملکی حراست میں ہیں۔ جبکہ گزشتہ تین برسوں میں پاکستان میں ایک سو باسٹھ غیر ملکی خواتیں کو مختلف جرائم میں گرفتار کیا گیا ہے۔






















