کراچی میں ہنگاموں کے بعد کشیدگی

مشتعل افراد نے متعدد گاڑیوں کو نذرِ آتش کر دیا
،تصویر کا کیپشنمشتعل افراد نے متعدد گاڑیوں کو نذرِ آتش کر دیا
    • مصنف, ارمان صابر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
  • وقت اشاعت

کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں دو سیاسی گروہوں کے درمیان جھگڑے اور ہنگاموں کے دوران درجن بھرگاڑیوں کے نذرِ آتش کیے جانے کے بعد علاقے میں اتوار کو بھی حالات کشیدہ ہیں۔

یہ جھگڑا سنیچر کو ایک بائیس سالہ لڑکے شاہ رخ خان کے مبینہ اغواء کے بعد شروع ہوا تھا اور اس نے سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب شدت اختیار کر لی تھی۔ اس دوران دونوں گروپوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا جس کے بعد گلستانِ جوہر بلاک اٹھارہ، تیرہ اور اس سے ملحقہ پہلوان گوٹھ میں دکانیں بند ہوگئیں جبکہ سڑکیں بلاک کر دی گئیں۔

فائرنگ کے بعد پولیس کی بھاری نفری علاقے میں پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ تاہم اس وقت تک مشتعل افراد نے درجن بھرگاڑیوں سمیت ایک واٹر ٹینکر کو نذرِ آتش اور سڑک کے کنارے کھڑی متعدد گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے تھے۔ پولیس کے مطابق فائرنگ سے کوئی شخص ہلاک نہیں ہوا ہے۔

علاقے کے مکینوں کا کہنا ہے کہ دونوں سیاسی گروہ اپنے اپنے مفادات کی لڑائی لڑ رہے ہیں جس کی وجہ سے علاقے کے مکینوں کا جینا دوبھر ہوچکا ہے۔ گلستانِ جوہر میں واقع رابعہ سٹی اپارٹمنٹ کے رہائشی حبیب احمد کا کہنا ہے کہ علاقے کے رہائشیوں نے پولیس کو بارہا شکایت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ علاقے میں ایک مستقل پولیس چوکی قائم کردی جائے تاکہ وہاں امن کے قیام کو یقینی بنایا جاسکے۔

اس سلسلے میں شاہراہ فیصل تھانے کے ایس پی عبدالقیوم پتافی کا کہنا ہے کہ یہ دو گروہوں کے درمیان جھگڑا ہے جو گذشتہ چند ماہ سے چل رہا ہے اور اسے حل کرانے کی کئی بار کوششیں کی گئیں ہیں لیکن کوئی ایسا واقعہ رونماء ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے یہ معاملہ اب تک حل نہیں ہوسکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ علاقے میں امن کو یقنی بنانے کے لئے ہر ممکن اقدامات کیے جارہے ہیں اور ساتھ ہی بھاری نفری بھی تعینات کردی گئی ہے۔