خاصخیلی کیس: لواحقین کی دوبارہ ہڑتال

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
کراچی میں بھوک ہڑتال کے دوران ہلاک ہونے والے کسان ولیداد خاصخیلی کے اہل خانہ نے حکومتی وعدے وفا نہ ہونے پر دوبارہ پریس کلب کے باہر ڈیرے ڈال دیے ہیں۔
ولیداد خاصخیلی کے بیس کے قریب رشتے دار جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں پیر کی دوپہر کو ایک ٹرک میں سوار ہوکر سنجھورو سے کراچی پہنچے۔
ولیداد کے بھتیجے مدد علی خاصخیلی کا کہنا تھا کہ حکومتی وزراء نے جو وعدہ کیے تھے ان میں سے کسی پر بھی عمل درآمد نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف ولیداد کی ہلاکت کی ایف آئی آر درج ہوئی ہے، جس میں بھی ملزموں کی ضمانت ہوگئی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ وریام فقیر کے الزامات غلط ہیں کہ وہ زمین پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ ’ہمارے پاس انیس سو پچاسی کے کاغذات موجود ہیں جبکہ وریام فقیر نے انیس سو اکیانوے میں فرضی ناموں پر زمین حاصل کی ہے۔‘
مدد علی کا کہنا تھا کہ جب تک گاؤں کی لیز نہیں ملتی اور اعلٰی سطح کی کمیٹی گاؤں نہیں جاتی بھوک ہرتال ختم نہیں کریں گے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس ابھی بھی وڈیرے کا ساتھ دے رہی ہے۔
اسی دوران وزیر اعلٰی کی مشیر شرمیلا فاروقی پہنچ گئیں اور بھوک ہڑتالی خاندان کو انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی مگر وہ بھوک ہڑتال جاری رکھنے کے عزم پر قائم رہے۔
شرمیلا فاروقی کا کہنا تھا کہ اب صرف گاؤں کی لیز کرنے کے مطالبے پر عمل درآمد رہ گیا ہے جبکہ دیگر مطالبات تسلیم ہوچکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے مطالبے کے مطابق پولیس نے سیکشن 316 کے تحت یہ ایف آئی آر درج کی تھی جس کے تحت یہ ناقابل ضمانت جرم ہے مگر عدالت نے وریام فقیر اور ان کے ساتھوں کی عبوری ضمانت دے دی ہے اب یہ عدالت کا معاملہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلٰی نے جس معاوضے کا اعلان کیا تھا اس کے لیے کاغذات درکار ہیں جو ولیداد کے لواحقین کو دینے کے لیے کہا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاغذات کے ملتے ہی انہیں ایک لاکھ روپے فراہم کردیے جائیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شرمیلا فاروقی کا کہنا تھا کہ زمین کی معلومات کے لیے انہوں نے ضلعی افسر ڈی سی او سے رپورٹ طلب کی ہے اور حکومت کے پاس جو زمین ہے وہ انہیں الاٹ کردی جائے گی اگر کسی کے نام پر زمین ہے تو یہ الگ معاملہ ہے۔
یاد رہے کہ ولیداد خاصخیلی کی ہلاکت کے دن چار صوبائی وزراء اور مشیروں نے ان کسانوں کے مطالبات تسلیم کرنے کا تحریری معاہدہ کیا تھا۔ شرمیلا فاروقی نے مطالبات پر حل کے لیئے کوئی ٹائم فریم دینے سے انکار کردیا ۔






















