پیپلز پارٹی وزراء کی نظریں صدر پر

پنجاب اسمبلی
،تصویر کا کیپشنپنجاب میں پیپلز پارٹی کے وزیر تقریباً دو ماہ سے غیر فعال ہیں
    • مصنف, علی سلمان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
  • وقت اشاعت

پنجاب میں پیپلز پارٹی کے دو مہینے سے غیر فعال صوبائی وزراء اپنے مستقبل کے لیے مرکز کی طرف نظریں جمائے ہوئے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین اور صدر مملکت آصف زرداری کے فیصلے کے بعد وہ اپوزیشن بنچوں پر جابیٹھیں گے یا پھر وزارتوں کی کرسیاں سنبھال لیں گے۔

پیپلز پارٹی پنجاب کے سینیئر وزیر راجہ ریاض اپنی نجی رہائش گاہ پر منتقل ہوگئے ہیں۔ ان کا ذاتی فرنیچر اور دیگر گھریلو سامان پانچ روز پہلے ان کے لاہور میں واقع ذاتی مکان میں پہنچا دیا گیا تھا۔

پیپلز پارٹی پنجاب کے میڈیا ایڈوائزر زکریا بٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ پارٹی کے تمام سات وزیر صدر مملکت آصف زرداری کے فیصلے کے منتظر ہیں اور پارٹی قیادت کا اشارہ ملتے ہی وہ تمام حکومتی مراعات سے دستبردار ہوجائیں گے۔

صوبے میں پیپلز پارٹی کے وزیر تقریباً دو ماہ سے غیر فعال ہیں۔ انہوں نے پچیس فروری سنہ دوہزار نو کو وزارتوں میں کام کرنا چھوڑ دیا تھا جب صوبے میں گورنر راج لگایا گیا۔

گورنر راج کے دوران پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ نون کے بغیر اپنی حکومت بنانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہی۔

مسلم لیگ نون نے حکومت کی بحالی کے بعد پیپلز پارٹی کو بدستور مخلوط حکومت میں شامل رہنے کی دعوت دی تھی لیکن پیپلز پارٹی نے اسے مسلم لیگ نون کی وفاقی کابینہ میں شرکت سے مشروط کر دیا تھا۔

مسلم لیگ نون نے وفاقی کابینہ میں شامل نہ ہونے کا واضح اعلان کر دیا ہے۔ پیپلز پارٹی کی سیکریٹری اطلاعات فوزیہ وہاب ایک سے زیادہ بار یہ کہہ چکی ہیں کہ چونکہ مسلم لیگ نون وفاق میں کابینہ میں شامل نہیں ہوئی اس لیے پیپلز پارٹی اب پنجاب حکومت کا حصہ نہیں رہے گی۔

پیپلز پارٹی پنجاب کے رہنما زکریا بٹ نے کہا کہ سب سے پہلے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی صدر مملکت کو پنجاب میں ہونے والی تمام پیش رفت کے بارے میں مطلع کریں گے جس کے بعد پارٹی قیادت فیصلہ کرے گی۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی پارلیمانی پارٹی یا صوبائی وزیروں کو ابھی تک اسلام آباد پہنچنے کی ہدایت نہیں ملی اور نہ اس کی کوئی خاص ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی کے سربراہ آصف زرداری نے اگر یہ فیصلہ کیا کہ پیپلز پارٹی حکومت میں شامل رہے گی تو وزیر کام شروع کر دیں گے لیکن اگر فیصلہ اس کے الٹ ہوا تو پیپلز پارٹی کے اراکین پنجاب اسمبلی اپوزیشن بنچوں پر جا بیٹھیں گے۔