’پاکستانی غصے کے تیز ہیں‘

- مصنف, ارمان صابر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
گیلپ پاکستان کے ایک سروے کے مطابق پچپن فیصد پاکستانیوں کو بہت جلد غصہ آ جاتا ہے جبکہ صرف سولہ فیصد ایسے ہیں جنہیں کبھی غصہ نہیں آتا ہے۔
ملک میں یہ سروے دو ہزار چھ سو انتیس افراد سے کیا گیا جن میں مرد اور خواتین دونوں شامل ہیں۔ یہ سروے چاروں صوبوں کے شہری اور دیہی علاقوں میں یکساں طور پر کیا گیا جس کی روشنی میں گیلپ پاکستان نے سروے رپورٹ تیار کی۔
سروے میں شامل آدھے سے زیادہ افراد کا کہنا ہے کہ انہیں غصہ جلد آتا ہے۔ عام طور سے ایک فرد کس قدر جلد غصے میں آتا ہے، اس سوال کے جواب میں سترہ فیصد کا کہنا تھا کہ وہ فورﴼ ہی غصے میں آجاتے ہیں جبکہ اڑتیس فیصد کا کہنا ہے کہ انہیں فورا تو نہیں مگر جلد غصہ آتا ہے، انتیس فیصد کا کہنا ہے کہ انہیں جلدی غصہ نہیں آتا جبکہ سولہ فیصد افراد ایسے ہیں جنہیں غصہ نہیں آتا۔
رپورٹ میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ مردوں کو خواتین کی نسبت جلدی غصہ آتا ہے۔ یعنی مرودوں میں غصہ آنے کی شرح بیس فیصد ہے تو خواتین میں یہ شرح چودہ فیصد ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق چوّن فیصد پاکستانی جذباتی ہیں، جن میں سے تیرہ فیصد نے کہا کہ وہ بہت زیادہ جذباتی ہیں جبکہ اکتالیس فیصد افراد کے خیال میں وہ کسی حد تک جذباتی ضرور ہیں۔
جب ان سے سوال کیا گیا کہ وہ اپنے دل کی بات مانتے ہیں یا دماغ سے فیصلے کرتے ہیں تو ان میں سے انیس فیصد کا کہنا ہے کہ وہ دل کی سنتے ہیں جبکہ چھتیس فیصد افراد دماغ سے فیصلے کرتے ہیں۔ تینتالیس فیصد کا کہنا ہے کہ یہ حالات پر منحصر ہوتا ہے کہ کس وقت دل سے یا پھر دماغ سے فیصلہ کیا جائے۔
سروے میں ایک سوال یہ بھی رکھا گیا تھا کہ اس وقت عوام کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے، اس سوال کے جواب میں پینتالیس فیصد افراد کا کہنا ہے انہیں اس وقت سب سے زیادہ مالی مسائل کا سامنا ہے۔ سترہ فیصد افراد کے نزدیک اس وقت سب سے اہم مسئلہ بیروزگاری ہے، جبکہ بارہ فیصد کے خیال میں سب سے بڑا مسئلہ امن و امان ہے۔ خاندانی معاملات، جائیداد، تعلیم، رہائش وغیرہ تین سے پانچ فیصد افراد کے نزدیک بہت اہم مسائل ہیں۔ ایک اور سروے رپورٹ میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کو بھی لوگوں کی بڑی تعداد نے ایک اہم مسئلہ قرار دیا اور ان میں پچاس فیصد افراد کو موجودہ حکومت سے امید ہے کہ وہ یہ مسئلہ حل کردے گی جبکہ بارہ فیصد کو موجودہ حکومت سے بھی کوئی توقع نہیں ہے۔


















