طیاروں کی بمباری، پانچ ہلاک

جیٹ طیارے
،تصویر کا کیپشناورکزئی ایجنسی میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران یہ تسیری فضائی کارروائی ہے
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

فوجی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں مشتبہ طالبان کے ٹھکانوں پر جیٹ طیاروں سے بمباری کی گئی ہے جس میں پانچ عسکریت پسند ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے ہیں۔ تاہم مقامی ذرائع نے ہلاک ہونے والوں میں دو عام شہری بتائے ہیں۔

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق بدھ کو اپر اورکزئی ایجنسی کے مرکز غلجو میں جیٹ طیاروں نے مشبتہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی جس میں پانچ شدت پسندوں کے مارے جانے اور آٹھ کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ بمباری بیت اللہ گروپ کے تحریک طالبان کے ٹھکانوں پر کی گئی۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کے ہلاک ہونے والوں میں دو عام شہری بھی شامل ہیں۔

مقامی لوگوں کے مطابق حملے میں غلجو بازار کو نشانہ بنایا گیا ہے جس سے لڑکوں کے ایک سکول، نادرا دفتر، گرڈ سٹیشن اور کچھ مکانات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بمباری سے علاقے میں سخت خوف وہراس پھیل گیا ہے اور تمام بازار اور تجارتی مراکز بند ہوگئے ہیں۔

مقامی لوگوں نے بتایا کہ بمباری کے بعد لوگوں نے غلجو سے محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی شروع کردی ہے اور لوگ بڑے پیمانے پر ہنگو اور قریبی علاقوں میں منتقل ہورہے ہیں۔

اورکزئی ایجنسی میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران یہ تیسری فضائی کارروائی ہے۔ دو دن قبل بھی غلجو اور ڈبوری کے علاقوں میں جیٹ طیاروں اور گن شپ ہیلی کاپٹروں سے مشتبہ طالبان کے ٹھکانوں پر کارروائیاں کی گئی تھیں۔

اورکزئی ایجنسی میں طالبان کے خلاف محدود پیمانے پر کارروائیوں کا سلسلہ گزشتہ دو ماہ سے جاری ہے۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے علاقے میں باقاعدہ کارروائی کا اعلان تو تاحال نہیں کیا گیا ہے تاہم بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ شہری علاقوں پر بمباری مقامی لوگوں کو علاقے سے نکالنے کے لیے کی جارہی ہے تاکہ طالبان کے خلاف بھرپور کارروائیوں کا آغاز کیا جائے۔

واضح رہے کہ اپر اورکزئی ایجنسی میں بیت اللہ محسود کے دست راست حکیم اللہ محسود کا کنٹرول بتایا جاتا ہے۔ چند ہفتے قبل اورکزئی ایجنسی میں ایک مبینہ امریکی ڈرون حملے میں دس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اس حملے کے ردعمل میں طالبان نے اسلام آباد میں ایف سی کے ایک مرکز پر حملہ کیا تھا جس کی ذمہ داری حکیم اللہ محسود نے قبول کرلی تھی۔