بونیر میں پولیس پر حملہ، اورکزئی ایجنسی میں بمباری

بنیر پولیس: فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنحملے میں پولیس والوں کی بندوقیں چھین لی گئیں اور دو اہلکار اب لا پتہ ہیں
    • مصنف, عبدالحئی کاکڑ، رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

صوبہ سرحد کے ضلع بونیر میں حکام کا کہنا ہے کہ مسلح افراد کی طرف سے پولیس موبائل پر حملے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا ہے۔ حملے کے بعد دو اہلکار لاپتہ ہوگئے ہیں۔یہ واقعہ علاقے میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کے چھ مزید دستے تعینات کیے جانے کے بعد پیش آیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی اہلکاروں کے یہ دستے سرکاری عمارتوں کی حفاظت کرنے کے علاوہ علاقے میں گشت کریں گے۔ حملے کے زد میں آنے والے اہلکار فرنٹئیر کور کے علاقے میں آنے والے دستے کی گاڑی کی حفاظت کر رہے تھے۔

ادھر پاکستان کی فضائیہ کےجیٹ طیاروں نے بدھ کے روز بھی قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں بمباری کی ہے جس میں ایک ہی خاندان کے تین بچے اور ایک خاتون ہلاک جبکہ پندرہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اورکزئی ایجنسی کی سرحد پر واقع خیبر ایجنسی کے علاقے ستوری خیل میں ایک مکان کو جیٹ طیاروں نے اس وقت نشانہ بنایا جب جنگی طیارے اورکزئی ایجنسی میں کارروائی کرنے کے بعد واپس جا رہے تھے۔

پولیس کے مطابق جمعرات کو فرنٹیئر کور کے اہلکار ایک گاڑی میں ڈیرہ اسمعیل خان سے بونیر آرہے تھے کہ توتالی پولیس سٹیشن کی حدود میں چنگلیئی کے مقام پر گاڑی کی حفاظت پر مامور پولیس موبائل پر نامعلوم مسلح افراد کی طرف سے فائرنگ کی گئی جس سے ایک اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا۔

تھانہ توتالی کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ واقعہ کے بعد دو افراد لاپتہ ہوگئے ہیں جبکہ مسلح افراد نے پولیس اہلکاروں سے بندوقتیں اور اسلحہ بھی چھین لیا ہے۔ دریں اثناء بونیر میں امن جرگہ منعقد ہوا جس میں طالبان نے علاقے میں مسلح گشت، سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے کاموں میں مداخلت نہ کرنے کی یقین دہائی کرائی ہے۔

دریں اثنا بونیر میں امن جرگہ منعقد ہوا ہے جس میں طالبان نے علاقے میں اسلحے کی نمائش اور سرکاری محکموں اور غیر سرکاری اداراوں میں مداخلت نہ کرنے کی یقیین دہانی کرائی ہے۔

جرگہ توحید آباد کے مقام پر ایک مدرسے میں منعقد ہوا جس میں بونیر کے ضلعی رابط افسر، امن جرگہ کے اراکین اور طالبان کے نمائندوں نے شرکت کی۔ جرگہ میں شامل عوامی نیشنل پارٹی کے ایک رہنما شمش بونیری نے بی بی سی کو بتایا کہ طالبان کے ایک کمانڈر مفتی بشیر نے جرگہ کو یقیین دہائی کرائی کہ آئندہ علاقے میں کوئی گشت ہوگا اور نہ اسلحے کی نمائش کی جائیے گی جبکہ سرکاری اور غیر سرکاری اداراوں کے کاموں میں بھی مداخلت بھی نہیں کی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندوں نے تعلیمی اداروں میں بھی کسی قسم کی روکاٹ نہ ڈالنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

شمش بونیری کے مطابق طالبان نے وعدہ کیا کہ آئندہ بونیر کے عوام کو کچھ نہیں کہا جائے گا جبکہ سلطان وس اور شل بانڈئی کے لوگ جنہوں نے طالبان کے خلاف لشکر تشکیل دیا تھا وہ بھی اگر معافی مانگ لیں تو ان سے بھی بات ہوسکتی۔

دوسری طرف بونیر میں طالبان کی طرف سے باقاعدہ سرگرمیاں شروع کرنے کے بعد ضلع بھر میں قائم تمام عدالتوں میں دوسرے روز بھی کوئی کام نہیں ہوسکا۔ بونیر کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ دو دنوں سے عدالتوں میں کوئی کام نہیں ہورہا جبکہ تمام جج بھی لمبی رخصت پر چلے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دو دن پہلے طالبان کے نمائندوں کی طرف سے ججوں کو پیغام دیا گیا تھا کہ مالاکنڈ ڈویژن میں شرعی نظام عدل کے نفاذ کے بعد ان کی ضرورت باقی نہیں رہی لہذا وہ علاقہ چھوڑے دیں۔ اہلکار کے مطابق اس پیغام کے بعد بونیر میں قائم تمام سات عمومی عدالتیں بند ہوگئی ہیں۔

ادھر صوبہ سرحد کے وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بونیر میں حملہ کرنے والے افراد کا مقصد در اصل نظام عدل کو نا کام بنانا ہے کیونکہ اس کی کامیابی کی صورت میں انہیں غیر مسلح ہونا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ متوازی حکومت بنانے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور اور اس میں فوج بھی شامل ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت نے ماضی میں فوج کی کارکردگی پر تحفظات ظاہر کیے تھے تاہم اب انہیں توقع ہے کہ سکیورٹی اجنسیاں کامیاب ہونگی’ملاکنڈ ڈویژن کی حد تک اب سکیورٹی ایجنسیاں اپنا کام کر کے دکھائیں گی اور انشاللہ اس دفعہ وہ جو اقدامات اٹھائیں گی اس پر کوئی تحفظات نہیں ہونگے بلکہ جو سوات میں کمی رہ گئئ تھے اس کمی کو پورا کر کے ایسے اقدامات اٹھائیں گی کہ لوگ مطمئن بھی ہونگے اور عسکریت پسندی بھی ختم ہو جائے گی۔‘