دارالقضاء کے قیام کی ڈیڈلائن میں توسیع

- مصنف, عبدالحئی کاکٹر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
- وقت اشاعت
کالعدم نفاذ شریعت محمدی نے مالاکنڈ ڈویژن اور ضلع کوہستان کی سطح پر دارالقضاء قائم کرنےکے حوالے سے حکومت کو دی جانے والی ڈیڈلائن میں غیر معینہ مدت تک توسیع کردی ہے۔
مولانا صوفی محمد کے صاحبزادے ضیاء اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے حکومت کو جمعرات کے روز تک مہلت دی تھی کہ وہ مالاکنڈ ڈویژن میں دارالقضاء ( ہائی کورٹ بنچ) کا قیام عمل میں لے آئیں لیکن حکومت اور جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا سمیع الحق کے رابطوں کے بعد اس میں غیر معینہ مدت تک توسیع کی جارہی ہے۔
انکے بقول مدت میں توسیع کو شوری کی جانب سےمنظوری دینے کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے۔ انکے مطابق جمعرات کو مولانا سمیع الحق نے علماء کے ایک وفد کے ہمراہ مولانا صوفی محد سے ملاقات کی۔
ضیاء اللہ کا مزید کہنا تھا کہ ملاقات کے دوران مولانا سمیع الحق نے مولانا صوفی محمد کے نفاذ شریعت کے مطالبے کی تائید کی البتہ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر ملکی اور بین الاقوامی سطح پر واویلا مچایاجارہا ہے لہذا احتیاط سے اقدامات کرنے چاہیے۔
یاد رہے کہ نفاذ عدل ریگولیشن پر صدر کے دستخط ہونے کے بعد صوبائی حکومت نے مالاکنڈ ڈویژن اور ضلع کوہستان میں قاضی عدالتیں، دارلقضاء اور دارل دارلقضاء( سپریم کورٹ بنچ) جلد قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم مولانا صوفی محمد نے دارلقضاء قائم کرنے کے لیے حکومت کو جمعرات کے روز تک مہلت دی تھی۔


















