اورکزئی ایجنسی بمباری، چار افراد ہلاک

قبائلی علاقہ
،تصویر کا کیپشناورکزئی ایجنسی میں مشتبہ طالبان کے بعض ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا: پاک فوج اہلکار
    • مصنف, عبدالحئی کاکڑ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

سکیورٹی فورسز نے جیٹ طیاروں سے جمعرات کو دوسرے روز بھی قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی پر بمباری کی ہے جس میں ایک ہی خاندان کے تین بچے اور ایک خاتون ہلاک جبکہ پندرہ کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اورکزئی ایجنسی کی سرحد پر واقع خیبر ایجنسی کے علاقے ستوری خیل میں ایک مکان کو جیٹ طیاروں نے اس وقت نشانہ بنایا جب جنگی طیارے اورکزئی ایجنسی میں کارروائی کرنے کے بعد واپس جا رہے تھے۔

ان کے بقول جیٹ طیاروں نے شاہ زرین نامی شخص کے مکان پر دو بم گرائے جس میں ان کے خاندان کے چار افراد ہلاک ہوگئے۔ متاثرہ خاندان کے سربراہ گل زرین نے بی بی سی کو بتایا کہ بدھ کی دوپہر تقریباً بارہ بجے جیٹ طیاروں نے آکر پہاڑ میں واقع ان کے مکان کو نشانہ بنایا جس میں بقول ان کے ان کی والدہ، بیٹا اور دو بھتیجے ہلاک جبکہ پندرہ زخمی ہوگئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ زخمیوں کو پشاور اور خیبر ایجنسی کے ڈوگرہ ہسپتالوں میں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے تاہم ان میں سے بھی بعض کی حالت تشویشناک ہے۔ گل زرین کے بقول انہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ ان کے گھر کو کیوں نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہاں پر نہ تو کوئی شدت پسند تھا اور نہ ہی اس قسم کی کوئی سرگرمیاں ہورہی تھیں۔

ادھر اورکزئی ایجنسی سے اطلاعات ہیں کہ جیٹ طیاروں نے لوئر اورکزئی کے سانگھڑ بازار کے قریب سیرئی گاؤں کو نشانہ بنایا ہے جس میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایک شخص ہلاک ہوا۔

پاکستانی فوج کے ایک اہلکار نے اورکزئی ایجنسی پر بمباری کی تصدیق کی ہے البتہ خیبر ایجنسی کے واقعے سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اورکزئی ایجنسی میں مشتبہ طالبان کے بعض ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ان کے بقول حملے میں پہنچنے والے جانی نقصان کے بارے میں فوری طور پر معلومات موصول نہیں ہوئی ہیں تاہم اس بارے میں ایک تفصیلی بیان بہت جلد جاری کردیا جائے گا۔

اورکزئی ایجنسی میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران یہ چوتھی فضائی کارروائی ہے۔