نظام عدل: ’حکومت نے سرنڈر نہیں کیا‘

- مصنف, اعجاز مہر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
بظاہر پہلی بار حکومت پاکستان نے شرعی ریگولیشن کے بارے میں خدشات کو مسترد کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں کھل کر اس کا دفاع کیا اور پارلیمانی امور کے وزیر بابر اعوان نے کہا کہ شرعی ریگولیشن آئین کے عین مطابق ہے۔
جمعہ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں صدارتی خطاب پر بحث سمیٹتے ہوئے پارلیمانی امور کے وزیر بابر اعوان نے کہا کہ شرعی ریگولیشن کا نفاذ طالبان کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے مترادف نہیں ہے اور حکومت نےکوئی ’سرینڈر‘ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ کوئی پلٹن کا میدان نہیں ہے بلکہ پارلیمان ہے اور یہاں کوئی سرینڈر نہیں ہوا ہے اور نہ ہی ہوگا۔‘
بابر اعوان نے شرعی ریگولیشن کی شقیں پڑھ کر وضاحتیں پیش کیں اور کہا کہ اس قانون کے تحت کوئی نجی عدالت قائم ہوگی اور نہ قاضی عدالتوں میں حکومت کے علاوہ کوئی قوت جج مقرر کرسکے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کسی کو کافر قرار دینے کا اختیار صرف اور صرف پارلیمان کے پاس ہے۔ انہوں نے انیس سو چُوہتر میں پارلیمان کی جانب سے قادیانیوں کو کافر قرار دینے کی مثال دی اور کہا کہ ایسا کرنے کا کسی عدالت کو حق ہے اور نہ کسی فرد کو۔
انہوں نے جارحانہ انداز میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ پاکستان کے خلاف باتیں کرتے ہیں کہ یہاں طالبان قبضہ کرلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اصل میں ایسے لوگ پاکستان کے جوہری پروگرام کے لیے خطرہ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔’کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ پاکستان میں ملٹری آئے یا پھر ملینٹنٹ (شدت پسند) ہوں اور عوام کی حکمرانی نہ ہو۔‘
واضح رہے کہ امریکہ کی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نےگزشتہ روز کہا تھا کہ طالبان اسلام آباد کے قریب پہنچ چکے ہیں اور پاکستان ان سے معاہدے کرنے کے بجائے ان کے خلاف کارروائی کرے۔
بابر اعوان نے ان کا ذکر تو نہیں کیا لیکن اتنا ضرور کہا کہ ’عالمی برادری پاکستان کو پاکستانیوں کی نظر سے دیکھے۔ جب امریکہ کی ہر ریاست میں مختلف قوانین نافذ ہیں تو پاکستان میں ایسا کیوں نہیں ہوسکا۔‘
قومی اسمبلی سے متفقہ طور پر صدارتی خطاب کے بارے میں اظہار تشکر کی قرارداد بھی منظور کی گئی۔ بعد میں پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے بتایا کہ میاں نواز شریف اور چوہدری شجاعت حسین سے ان کی بات ہوئی ہے اور مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف کے مشورے پر انتہا پسندوں کے خلاف قومی پالیسی بنانے کے لیے جلد ایک کُل جماعتی کانفرنس بلائی جائے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزیراعظم نے کہا کہ قوم پرامید رہے خطرے کی کوئی بات نہیں حکومت اور فوج تمام معاملات سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کا جوہری اسلحہ محفوظ ہاتھوں میں ہے، فوج عوامی حکومت کے ماتحت ہے اور جہاں بھی ضرورت پڑے گی فوج کو بھیجا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کی فوج دنیا کی بہترین فوج ہے اور پاکستان کی طرف میلی نظر رکھنے والوں کو ہماری لاشوں سے گزرنا پڑے گا۔‘ انہوں نے کہا قبائلی عوام محب وطن ہیں لیکن چند مٹھی بھر شدت پسند لوگ عدم استحکام پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ ’اگر کسی نے معاہدے کی خلاف ورزی کی اور حکومتی رٹ کو چیلنج کیا تو حکومت قوم اور فوج کے تعاون سے انہیں نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔‘
وزیراعظم نے کہا قومی سلامتی کے بارے میں پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات پر ایوان بحث کرے اور پارلیمان متفقہ پالیسی بنائے، تاکہ جب صدر امریکہ جائیں تو وہ کہہ سکیں کہ یہ پارلیمان کا متفقہ فیصلہ ہے کہ کیا انہیں قبول ہے اور کیا قبول نہیں ہے۔
پاکستان کی قومی اسمبلی میں ویسے تو آئے روز مختلف الخیال جماعتیں ایک دوسرے کو آڑے ہاتھوں لیتی رہتی ہیں لیکن کچھ ہفتوں کی تلخی کے بعد جمعہ کو قومی معاملات پر اتفاق رائے نظر آیا۔ ایوان میں حاضری کافی کم رہی اور مزید کارروائی پیر کی شام تک ملتوی کردی گئی۔






















