ملکی مسائل پر کل جماعتی کانفرنس پر اتفاق

- مصنف, علی سلمان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
- وقت اشاعت
پاکستان مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف نے انتہا پسندی، فاٹا، سوات اور بلوچستان اور اقتصادی بحران کےحل کے لیے قومی کانفرنس بلانے کی تجویز دی ہے جسے ان کے بقول وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے منظور کرلیا ہے۔اس قومی کانفرنس میں پارلیمان کے اندر اور باہر موجود تمام سیاسی جماعتوں کی قائدین کے علاوہ تمام متعلقہ فریقین کو بھی بلایا جائےگا۔
میاں نواز شریف نے لاہور میں رائے ونڈ میں اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس سےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی نے ان کی آل پارٹیز کی کانفرنس کی تجویز کو منظور کر لیا ہے۔ اس کانفرنس میں ملک میں انتہا پسندی، فاٹا، سوات اور بلوچستان اقتصادی بحران پر غور کیا جائے گا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف اور قائد حزب اختلاف چودھری نثار علی خان بھی موجود تھے۔
میاں نواز شریف نےصحافیوں کو اس خط کی نقول بھی فراہم کی گئیں جو انہوں نے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو لکھا تھا۔ میاں نواز شریف نے وزیر اعظم کو خط میں پاکستان کو درپیش انتہا پسندی، فاٹا، سوات او بلوچستان کے حالات، صوبائی خود مختاری، فوری انصاف، مہنگائی اور بے روزگاری اور توانائی کے بحران کا ذکر کیا ہے ۔
نواز شریف نے بتایا کہ وزیر اعظم نے خط وصول کرنے کے بعد ٹیلی فون پر ان سے بات کی اور انہیں یقین دلایا کہ وہ جلد از جلد وہ یہ کانفرنس بلانے کی کوشش کریں گے اور یہ کانفرنس بلانے کے لیے آپس میں بیٹھ کر طریقہ کار طے کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان جن حالات سے گزر رہا ہے اور اسے جو مسائل درپیش ہیں اسے حل کرنا کسی ایک پارٹی کے بس کی بات نہیں ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ ’اب اقتدار کی جنگ ختم ہونی چاہیے اور سب مل بیٹھ کر ان مسائل کا حل تلاش کریں۔‘
نواز شریف نے کہا کہ <link type="page"><caption> پاکستان ایک خطرناک موڑ پر پہنچ گیا ہے</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/03/090316_singh_is_king_fz.shtml" platform="highweb"/></link> آج ملک کی بقا کا سوال ہے سب کو سرجوڑ کر بیٹھنا ہوگا اور ایک مشترکہ لائحہ عمل بنانا ہوگا۔
مسلم لیگ نون کے سربراہ نے کہا کہ اس قومی کانفرنس میں تمام لوگ سرجوڑ کر بیٹھیں چاہے انہیں چوبیس گھنٹے لگیں، تین دن یا سات دن لگیں وہ اس وقت اٹھیں جب ایک قومی ایجنڈا تیار کر لیا جائے۔
نوازشریف نے کہا کہ کانفرنس کی جو بھی سفارشات ہوں گی وہ پارلیمان میں جائیں گی اور ان پر قانون سازی کی جائے گی اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے ان پر عملدرآمد کیا جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
میاں نواز شریف نے آل پارٹیز کانفرنس میں طالبان کو بھی بلانے سے متعلق سوالوں کا کوئی واضح جواب نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی امکان کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے لیکن کسی کو گن پوائنٹ پر علاقے فتح کرنے اور من مانی کا اجازت نہیں دی جاسکتی۔
میاں نوازشریف نے کہا کہ انہوں سے سوات کے معاہدہ امن کی غیر مشروط حمایت اس لیے کی کیونکہ وہ حکومت کے لیے پریشانی پیدا نہیں کرنا چاہتے تھے لیکن اس معاہدے کے بعد جو باتیں سامنے آئیں تو ہمارا بھی ردعمل ہوا ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ تمام متعلقہ فریقین سے ان کی کیا مراد ہے تو انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے علاوہ اس ملک کی سول سوسائٹی، عدلیہ، فوج، دانشور اور بلوچستان جیسے صوبوں کے قائدین شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج اگر ان مسائل کا حل نہ کیا گیا تو اس ملک میں جمہوریت نا کام ہوسکتی ہے جس کا پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔ انہوں نے کہا 'ہم پاکستان کو ناکام ہوتا نہیں دیکھ سکتے کیونکہ یہ وہ واحد نظام ہے جو پاکستان کو متحد اور مستحکم رکھ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا یہ آل پارٹیز کانفرنس ہم خود بھی بلاسکتے تھے لیکن ہم نے اس نیک کام کے لیےحکومت کو دعوت دی کیونکہ یہ وقت یہ دیکھنے کا نہیں ہے کہ کون کس عہدے اور کس مقام پر ہے بلکہ یہ سوچنا ہوگا کہ پاکستان ہمارا ہے اور اس ملک کے سولہ کروڑ عوام ہماری جانب دیکھ رہے ہیں۔
نواز شریف نے پاکستان کو درپیش موجود مسائل کا بنیاد بار بار کے مارشل لاء اور فوجی جرنیلوں کی حکمرانی کو قرار دیا اور کہا کہ جس ملک میں گن پوائنٹ پر پارلیمان کو توڑ دیا جائے عدلیہ ختم کردی جائے ہر ادارے کو تباہ کردیا جائے تو پھر دوسرے عناصر بھی گن پوائنٹ پر اپنی بات منوانے کی کوشش کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا جب جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون لاگو کیا جائے تو پھر ہرکوئی اپنی دھونس دھاندلی چلانے کی کوشش کرتا ہے۔ انہوں نے کہا آمریت کے پیدا کردہ حالات نے ملک کی بقااور سالمیت کے خطرہ پیدا کردیاہے۔ یہ مسائل اب صرف باتوں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ختم ہوسکیں گے۔






















