’وزیر اعظم پر حملے کا خدشہ‘

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
ایک سرکاری دستاویز میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی سیکورٹی مزید سخت کرنے کی ہدایات کی گئی ہے۔
سرکاری دستاویز میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم پر حملے کے لیے خدشہ ہے کہ شدت پسند دھماکہ، خودکش حملہ یا پھر اندھا دھند فائرنگ کرسکتے ہیں۔
وزارت داخلہ کی طرف سے جاری ہونے والی اس دستاویز کے متعلق ایوان صدر کے سیکورٹی امور کے انچارج کے علاوہ وزیر اعظم کے ملٹری سیکرٹری اور قانون نافد کرنے والے اداروں کے متعلقہ حکام کو اس ضمن میں آگاہ کردیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ برس اسلام آباد ہائی وے پر وزیر اعظم کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی تھی تاہم جس وقت فائرنگ کا یہ واقعہ رونما ہوا اُس وقت یوسف رضا گیلانی گاڑی میں موجود نہیں تھے۔ اسلام آباد پولیس اس واقعہ میں ملوث کسی بھی شخص کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے۔
وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق حکومت ملک کی اہم شخصیات کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے امریکہ سمیت یورپی ملکوں سے جدید سازوسامان خرید رہی ہے اور اس حوالے سے مختلف ملکوں کی کمپنیوں کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔
وزارت داخلہ نے اس حوالے سے ساز وسامان کی خریداری کے حوالے سے ایک فہرست وزارت خزانہ کو بھجوائی ہے۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ ساڑھے چار سال کے دوران تقریبًا دو ارب روپوں کی مالیت کی اعلیٰ شخصیات کے پروٹوکول کے لیے انسٹھ گاڑیاں خریدی گئیں۔ جس میں سے اٹھائیس بلٹ پروف ہیں۔ انسٹھ میں سے تینتالیس گاڑیاں سینٹرل پول میں ہیں اور وہ صدر، وزیراعظم اور ریاستی مہمانوں کے لیے مختص ہیں۔
تین ہفتے قبل خفیہ اداروں کی طرف سے حکومت کو دی جانے والی اطلاعات کے مطابق تحریک طالبان پاکستان سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں نے اسلام آباد کے گرد و نواح میں اپنے خفیہ ٹھکانوں پر بڑی تعداد میں اسلحہ پہنچا دیا ہے۔
واضح رہے کہ چند روز قبل مشیر داخلہ رحمان ملک نے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کی تھی اور اُنہیں شدت پسندوں کے خلاف ہونے والی کارروائی کے علاوہ شدت پسندوں کی سرگرمیوں کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسلام آباد میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران دو خودکش حملے ہوچکے ہیں جن میں شدت پسندوں نے پولیس اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کو نشانہ بنایا۔ پہلا خودکش حملہ ستارہ مارکیٹ کے قریب اسلام آباد پولیس کے ادارے سپیشل برانچ کے مرکزی دورازے پر ہوا جبکہ دوسرا خودکش حملہ فرنٹیئر کانسٹیبلری کی بیرک پر ہوا تھا اور ان دونوں حملوں کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ بیت اللہ محسود نے قبول کی تھی۔






















