’کوئی گیم کھیلا جارہا ہے یا سازش ہے‘

- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
- وقت اشاعت
قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد میں ایک عرصے سے یہ بحث چل رہی ہے کہ ملک کے حالات کب ٹھیک ہونگے اور یہ کہ کیا واقعی حکومت اور سکیورٹی فورسز طالبان سے نمٹنے میں ناکام ہوگئی ہیں یا اس خطے میں کوئی گیم کھیلا جارہا ہے یا سازش ہورہی ہے۔
یہ وہ سوالات ہیں جو آج کل رکشہ ڈرائیور سے لے کر یونیورسٹی کے پروفیسر تک سب کی زبان پر ہیں۔ لیکن بظاہر اس سوال کا جواب کسی کے پاس بھی نہیں۔ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جاری مبینہ جنگ میں گزشتہ چار پانچ سالوں کے دوران شاید ایک بھی ایسا لمحہ دیکھنے کو نہیں ملا جس میں کوئی یقین سے کہہ سکا ہو کہ اب حالات بہتر ہوگئے ہیں اور ملک و قوم کو مزید جنگ و جدل اور بے یقینی کی کفیت سے نجات مل گئی ہے۔
مایوسی گناہ ہے مگر بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ عوام کا اب ایک خواب ہی رہے گا کیونکہ مستقبل قریب میں امید کی کوئی ایسی کرن نظر نہیں آرہی۔
اس وقت اگر ایک اندازہ ہی لگایا جائے تو دس سے بارہ لاکھ افراد جھڑپوں اور فوجی کارروائیوں کی وجہ سے قبائلی علاقوں اور سرحد کے مختلف اضلاع سے بے گھر ہوچکے ہیں۔ یہ بے گھر افراد مہاجر کیمپوں میں انتہائی اذیت اور کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو ان لوگوں کا کوئی قصور بھی نہیں، اگر ہے بھی تو اتنا کہ ان کا تعلق ان علاقوں سے ہیں جہاں طالبان سرگرم تھے۔
وزیرستان سے لے کر وادی سوات تک لگی ہوئی آگ نے تباہی اور بربادی کے علاوہ علاقوں کے نقشے تک تبدیل کردیے ہیں۔ کبھی کبھی تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم پتھر کے زمانے کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ ایک امریکی اہلکار نے مبینہ طور پر ٹھیک ہی کہا تھا کہ ’تمہیں پتھر کے زمانے میں بھیج دیں گے‘۔
صوبہ سرحد میں سوات ایک ایسا ضلع ہے جہاں پر تعلیم کا معیار اور شرح اچھی تھی لیکن وہاں دو سالوں کے دوران تعلیمی اداروں پر حملے اور لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کے تناظر میں اگر اندازہ لگایاجائے تو اب سوات کا شمار ایک پسماندہ ضلع میں ہوگا ۔ وہاں جو تباہی و بربادی ہوئی ، ہلاکتیں ہوئی، کیا اس کا ازالہ ممکن ہے؟ اگر ہو بھی جائے تو کئی سال لگ سکتے ہیں۔
صوبہ سرحد کے جنوبی اضلاع پہلے دور دراز علاقے سمجھے جاتے تھے۔ پہاڑی مقامات پر ہونے کی وجہ سے پہلے لوگوں کو ان علاقوں تک رسائی میں مشکلات پیش آتی تھیں۔ لیکن گزشتہ چند سالوں کے دوران انڈس ہائی وے اور کوہاٹ ٹنل کی تعمیر سے ان اضلاع تک رسائی میں بڑی آسانی پیدا ہوگئی تھی۔

لیکن اب دو تین سالوں کے دوران درہ آدم خیل ، ہنگو، بنوں اور ڈیرہ اسمٰعیل خان میں جاری کشیدگی اور جھڑپوں نے لوگوں کو ایک بار پھر پرانے زمانے کی طرف دھکیل دیا ہے۔ پہلے کوہاٹ ٹنل پر دن رات ٹریفک جاری رہتی تھی لیکن آج کل صورتحال یہ ہے کہ پانچ بجے ہی ٹنل بند ہوجاتی ہے یعنی دوسرے الفاظ میں پشاور سے جنوبی اضلاع آنے یا جانے کے لیے دن میں پانچ سے چھ گھنٹے ہیں اس دوران لوگ آجا سکتے ہیں ورنہ دوسرے دن کےلیے انتظار کرنا پڑتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے علاوہ ان علاقوں سے گزرتے ہوئے یہ خطرہ بھی ہر لمحہ موجود رہتا ہے، کوئی قتل نہ کردے، اغوا نہ کرلے، کسی اندھے راکٹ یا گولی کا نشانہ نہ بنیں وغیرہ ۔
صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں جہاں بھی جائیں ہر محفل میں یہی ایک سوال ہے کہ اس ملک کا کیا بنے گا، کون اس ملک کا دشمن ہے اور کیا واقعی حکومت طالبان سے نٹمنے میں ناکام ہوگئی ہے؟
پاکستان کے بارے میں ناکام ریاست کی باتیں تو بہت پہلے سے ہورہی تھی ۔ لوگ اب یہ سوال بھی کرنے لگے ہیں کہ بعض بیرونی طاقتیں اس خطے کو تقسیم کرنے کی سازش کررہی ہے۔
چند دن قبل گورنر سرحد اویس احمد غنی نے قبائلی صحافیوں کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کا اقرار کیا تھا کہ بعض بیرونی طاقتیں اس ملک کو ایک بڑی قوم کی بجائے چھوٹی چھوٹی قوموں میں تقسیم کرنا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کسی کا نام لیے بغیر کہا تھا کہ طاقتور جانور جب کسی کمزور جانور کو گھیر لیتا ہے تو پھر کمزور کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا کہ اپنی جان بچانے کےلیے طاقتور پر حملہ کردے۔
ملک کے حالات بظاہر اتنے خراب ہوگئے ہیں کہ اس نے رکشہ ڈرائیور سے لے کر ملک کے ہر شہری کو پریشانی سے دوچار کردیا ہے۔ تاہم دو تین دن کے دوران ملک کی سلامتی کے کے بارے میں اعلی حکومتی سطح پر کئی اجلاس ہوچکے ہیں اور آئندہ چند دنوں تک اہم فیصلے متوقع ہیں۔






















