سوات: مذاکرات معطل کرنے کا اعلان

سوات طالبان
،تصویر کا کیپشنآپریشن کے دوران امن مذاکرات نہیں ہوسکتے:طالبان
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

کالعدم تنظیم تحریک نفاذ شریعتی محمدی نے دیرلوئر میں شروع ہونے والے فوجی آپریشن کے خلاف ردعمل کے طورپر سوات امن مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

تنظیم کے مرکزی ترجمان امیر عزت خان نے پیر کی صبح بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ دیرلوئر میں گزشتہ روز سے شروع کی جانے والی فوجی کاروائیوں کے خلاف سوات امن مذاکرات معطل کردیا گیا ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے دیر میں آپریشن کا آغاز کر کے امن معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آپریشن کے دوران امن مذاکرات نہیں ہوسکتے لہذا فوری طورپر سوات امن مذاکرات معطل کردیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ’ہمارا معاہدہ پورے مالاکنڈ ڈویژن کی سطح پر تھا اور دیر لوئر بھی مالاکنڈ کا ہی حصہ ہے

ترجمان نے بتایا کہ تحریک کے سربراہ مولانا صوفی محمد اپنے آبائی علاقے میدان چلے گئے ہیں اور دیر آپریشن شروع ہوجانے کی وجہ سے ان سے کوئی رابط نہیں ہوپا رہا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک صوفی محمد سے رابط نہیں ہوتا ، ان کا حکومت سے ہونے والے امن مذاکرات معطل رہیں گے۔

گزشتہ روز سکیورٹی فورسز نے لوئر دیر کے علاقوں لعل قلعہ اور کالا ڈاگ میں عسکریت پسندوں کے خلاف کاروائیاں کرتے ہوئے تیئس سے زائد شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا تھا۔ تاہم مقامی سطح پر ان ہلاکتوں کی تصدیق نہیں ہوئی تھی۔ جھڑپوں میں ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے تھے۔

فوج نے دعوی کیا تھا کہ لال قلعہ کا علاقہ عسکریت پسندوں سے صاف کردیا گیا ہے۔ فوج کے شعبہ تعلقات کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ صوبائی حکومت اور دیر کے عوام کی درخواست پر عسکریت پسندوں کے خلاف کاروائیوں کا آغاز کیا گیا ہے۔