طالبان مخالف لشکرکا سربراہ قتل

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنطالبان مخالف قبائلی لشکریوں پر کئی قاتلانہ حملے ہو چکے ہیں
    • مصنف, عبدالحئی کاکڑ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد نے سالارزئی قبیلے کے طالبان مخالف لشکر کے سربراہ ملک کمال خان کو ان کے ایک ساتھی سمیت قتل کر دیا ہے۔

مقامی حکام کا کہنا ہے کہ حکومت حامی مقامی لشکر کے سربراہ ملک کمال خان صدر مقام خار سے سالار زئی واپس جا رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کی۔ ان کے مطابق حملےمیں ان کا ایک ساتھی موقع پر ہلاک جبکہ خود قبائلی سربراہ شدید زخمی ہوگئے۔ واقعہ میں ایک بچے سمیت دو افراد بھی زخمی ہوئے ہیں۔

حکام نے مزید کہا ہے کہ ملک کمال خان کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے ہسپتال پہنچایا گیا جہاں پر وہ زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسے۔کسی نے بھی اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

ساٹھ سالہ ملک کمال خان نے حکومت کی مدد سے طالبان کے خلاف سالار زئی قبیلے کا ایک لشکر تشکیل دیا تھا اور انہیں علاقے میں ایک سرکردہ قبائلی رہنماء کے طور پر جانا جاتا تھا۔ چند دن قبل بھی سالار زئی لشکر نے طالبان کو محاصرے میں لیا تھا جنہیں بعد میں ضمانت پر محفوظ راستہ دیا گیا تھا۔

پچھلے سال منتخب حکومت کے قیام کے بعد طالبان سے نمٹنے کے لیے باجوڑ، کرم ایجنسی اور صوبہ سرحد کے دیگر علاقوں میں مقامی لشکر تشکیل دیے گئے تھے تاہم طالبان نے خودکش حملوں اور بم دھماکوں کے ذریعے درجنوں قبائلی مشران اور عام لوگوں کو مار کر بظاہر ان لشکروں کو غیر فعال بنا دیا تھا۔