مذاکرات بحال کرنے سے انکار

- مصنف, عبدالحئی کاکڑ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
- وقت اشاعت
صوبائی حکومت نے ضلع دیر میں شروع کی جانے والے کارروائی کے بعد کالعدم تنظیم تحریک نفاذ شریعت محمدی سے دوبارہ مذاکرات بحال کرنے کی پیشکش کی ہے۔ ٹی این ایس ایم نے علاقے میں فوجی کارروائی شروع ہونے کے بعد پیر کو مذاکرات کی احتجاجاً معطلی کا اعلان کیا تھا۔
تاہم مولانا صوفی محمد نے صوبائی حکومت کی پیشکش کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک فوجی کارروائی نہیں روکی جاتی بات چیت معطل رہے گی۔
پشاور میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے کہا کہ حکومت نے نظام عدل ریگولیشن کے نفاذ کے بعد دارلقضاء اور قاضی عدالتوں کو فی الفور قائم کرنے کے لیے اپنا کام مکمل کردیا ہے لیکن اس حوالے سے مولانا صوفی محمد کی مشاورت ضروری ہے۔
انہوں نے مولانا صوفی محمد کو پیشکش کی کہ وہ ملاکنڈ ڈویژن میں نظام عدال ریگولیشن کے عملی نفاذ کے لیے مذاکرات کی معطلی ختم کردیں اور حکومت ایک گھنٹے کے نوٹس پر ان سے بات چیت کے لیے پہنچ سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ضلع دیر میں کارروائی میں پہل حکومت نے نہیں بلکہ جوابی کارروائی کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نظام عدل کے نفاذ کے بعد مولانا صوفی محمد اور مولانا فضل اللہ نے بندوق نہ اٹھانے کی بات کی تھی جس کی حکومت تعریف کرتی ہے لیکن اس کے باوجود بونیر، شانگلہ اور دیر میں طالبان نے پیشقدمی کی۔
میاں افتخار کا مزید کہنا تھا کہ دیر میں پولیس سربراہ، سابق ناظم اور سکیورٹی اہلکاروں کے اغواء کی وارداتیں ہوئیں اور اس قسم کی وارداتوں کی روک تھام کے لیے حکومت نے سکیورٹی فورسز کی تعیناتی کا فیصلہ کیا مگر تعیناتی کے وقت سکیورٹی فورسز پر حملہ ہوا جس میں موقع پر دو اہلکار ہلاک جبکہ چترال اسکاوٹس کے آٹھ اہلکاروں کو بھی قتل کردیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان حالات میں حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ شہریوں کی حفاظت، انکی حکومت پر اعتماد کو بحال اور وہاں پر اپنی عملداری قائم کردیں۔ انہوں نے کہا کہ بونیر اور شانگلہ میں غیر مقامی مسلح افراد کے پہنچنے کی بھی اطلاعات ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ طالبان ان علاقوں سے نکل کر اپنی سابقہ پوزیشن پر واپس چلے جائیں۔
دوسری طرف کالعدم تنظیم تحریک نفاذ شریعت محمد کے سربراہ مولانا صوفی محمد نے بات چیت کے دوبارہ آغاز کے حوالے سے حکومتی پیشکش کو رد کردیا ہے۔ اپنے بیٹے ضیاء اللہ کےتوسط سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب تک فوجی کارروائی نہیں روکی جاتی تب تک مذاکرات شروع نہیں کیے جاسکتے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے دعوی کیا کہ طالبان نے سکیورٹی فورسز اور حکومتی املاک کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا تھا لہذا حکومتی کارروائی بلاجواز اور معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔
مولانا صوفی محمد کے بارے میں پاکستانی ذرائع ابلاغ نے یہ خبر دی تھی کہ وہ دو دن سے غائب ہیں اور ان کے ساتھ کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں ہو پا رہا تاہم انہوں نے بیٹے کے توسط سے بی بی سی سے رابطہ کر کے بتایا کہ وہ دیر کے میدان علاقے میں موجود ہیں اور صحیح سلامت ہیں۔
یاد رہے کہ حکومت نے اتوار کی صبح لوئر دیر میں فوجی کارروائی شروع کر دی تھی جو ابھی تک جاری ہے۔ آپریشن کی خبر سنتے ہی ملانا صوفی محمد اپنے تنظیمی مرکز امام درہ سے نکل کر اپنے آبائی علاقے میدان پہنچ گئے تھے۔






















