میڈیا کو دھمکیاں: صحافیوں کا احتجاج

مظاہرے میں صحافیوں کے مبینہ اغواء اور انہیں دی جانے والی دھمکیوں کی مذمت کی گئی
،تصویر کا کیپشنمظاہرے میں صحافیوں کے مبینہ اغواء اور انہیں دی جانے والی دھمکیوں کی مذمت کی گئی
    • مصنف, عبدالحئی کاکڑ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

صوبہ سرحد میں صحافیوں نے طالبان کی جانب سے دی گئی دھمکیوں کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ کیا ہے جس میں طالبان اور سکیورٹی ایجنسیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ صحافیوں سے متعلق اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں۔

اس سے قبل ہونے والے ایک اجلاس میں سکیورٹی ایجنسیوں کی جانب سےانگریزی اخبار سے منسلک صحافی دلاور جان اور مینگورہ میں ایکسپریس اخبار کے نمائندے حضرت علی باچا کو مبینہ طور پر حراست میں لیے جانے کے واقعے کی مذمت کی گئی۔

خیبر یونین آف جرنلسٹس اور پشاور پریس کلب کے زیر اہتمام ہونے والا اس احتجاجی مظاہرے میں صحافیوں نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے اور انہوں نے نعرے بازی کی۔

صحافیوں نےحکومت اور ذرائع ابلاغ کے مالکان سے مطالبہ کیا کہ وہ کام کرنے والے صحافیوں کی حفاظت کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائیں۔ مظاہرے کی قیادت خیبر یونین آف جرنلسٹس کے صدر محمد ریاض، جنرل سیکرٹری یوسف علی، پشاور پریس کلب کےصدر شمیم شاہد اور فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے نائب صدر سہیل قلندر نے کی۔

مظاہرے سے قبل صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں صحافیوں کی حالت زار پر ایک ہنگامی اجلاس بھی منعقد ہوا جس میں مقررین نے کہا کہ اس وقت ان علاقوں میں صحافیوں کو خطرات کا سامنا ہے۔اجلاس میں ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں صحافیوں کے مبینہ اغواء اور انہیں دی جانے والی دھمکیوں کی مذمت کی گئی۔

قرارداد میں پاکستان کی سکیورٹی ایجنسیوں اور مبینہ عسکریت پسندوں کی جانب سے صحافیوں کو درپیش خطرات کا بھی نوٹس لیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ صحافیوں سے متعلق اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں۔

اجلاس میں انگریزی اخبار ’دی نیوز‘ کے پشاور میں نمائندے دلاور جان وزیر اور اردو اخبار ایکسپریس کے مینگورہ میں نمائندے حضرت علی باچا کے حراست میں لیے جانے اور طالبان کی جانب سے مبینہ طور پر دیر میں ایک نجی ٹیلی ویژن چینل ’آج‘ کے نمائندے ہارون رشید کو حراساں کرنے کے واقعات کی مذمت کی۔

اجلاس میں صحافیوں پر زور دیا گیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں اپنی حفاظت کا خصوصی خیال رکھیں اور علاقے میں امن کے قیام میں اپنا مثبت کردا ادا کریں۔ اجلاس میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے مالکان سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے کارکنوں کی حفاظت کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔

یاد رہے کہ سوات میں مقامی طالبان نے منگل کے روز ایک پمفلٹ جاری کیا تھا جس میں ذرائع ابلاغ کو متنبہ کیا گیا تھا کہ وہ سوات میں نظام عدل اور امن کے عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں سے گریز کریں ورنہ ان کے خلاف شرعی عدالتوں میں جایا جا سکتا ہے اور اس کے تمام تر نتائج کے ذمہ دار وہ خود ہوں گے۔

واضع رہے کہ صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں اب تک تقریباً درجن بھر صحافیوں کو قتل کیا گیا ہے اور طالبان اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے صحافیوں کو دھمکانا معمول کا حصہ بن گیا ہے۔ اس دوران کئی صحافیوں کو اغواء اور حراست میں بھی لیا گیا ہے۔

جبکہ صحافتی تنظیمیں یا متعلقہ ادارے کے سربراہان مغوی صحافی کی جان کو ممکنہ خطرے کی خوف سے اسے رپورٹ کرنے سے بھی اجتناب کرتے ہیں۔ تاہم صحافیوں کے بقول اب صورتحال دن بدن خرابی کی طرف جا رہی ہے اور انہیں چوبیس گھنٹے ایک انجانے خوف کا سامنا رہتا ہے۔