’ڈیڈلائن نہیں دی جا سکتی‘

میجر جنرل اطہر عباس
،تصویر کا کیپشن’شدت پسندوں کے خلاف آپریشن مکمل ہونے کے لیے ڈیڈلائن نہیں دی جاسکتی‘
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے کہا ہے کہ دیر اور بونیر میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کے مکمل کرنے کے لیے کوئی ڈیڈ لائن نہیں دی جاسکتی۔

انہوں نے کہا کہ ابھی اس آپرشن کو شروع ہوئے تین دن ہوئے ہیں اور یہ آپریشن ایک ہفتہ سے پہلے بھی مکمل ہوسکتا ہے اور اس میں تاخیر بھی ہوسکتی ہے۔

جمعرات کو فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل اطہر عباس نے راولپنڈی میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بونیر میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن جمعرات کو مقامی وقت کے مطابق صبح چھ بجے شروع کیا گیا تھا اور ڈگر کے علاقے میں فوج کا قبضہ ہونے کے بعد وہاں کا انتظام سول انتظامیہ کے حوالے کردیا گیا ہے جبکہ وہاں فرنٹیئر کور کا ہیڈ کوراٹر بھی قائم کردیاگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جھڑپوں میں چار شدت پسند ہلاک ہوگئے جبکہ اس کارروائی میں حصہ لینے والے فرنٹیئر کور کا ایک سپاہی زخمی ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شدت پسندوں نے دیر کے علاقے میں سیکورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے لیے بارود سے بھری ہوئی چار گاڑیاں بھیجیں جن کا پتہ چلنے کے بعد سیکورٹی فورسز نے اُن گاڑیوں پر فائرنگ کردی جس سے دو گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں جبکہ دو گاڑیاں بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئیں۔

میجر جنرل اطہر عباس کا کہنا تھا کہ شدت پسند زیادہ تر آبادی والے علاقوں میں چھپے ہوئے ہیں اور فوج شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کے دوران مقامی آبادی کو زیادہ سے زیادہ بچانا چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ شب شدت پسندوں نے پیر بابا کے قریب پولیس سٹیشن کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کردیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ شدت پسند اس علاقے میں کافی تعداد میں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سلطان واس اور پیر بابا کے بیشتر حصوں پر شدت پسند قابض ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بونیر میں کرفیو میں صبح آٹھ بجے سے دن ایک بجے تک کی نرمی کی گئی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں میجر جنرل اطہر عباس کا کہنا تھا کہ ان شدت پسندوں کو پاکستان مخالف حفیہ ایجنسیاں اسلحہ اور پیسہ فراہم کر رہی ہیں اور شدت پسندوں کو اسلحہ اور پیسے کی فراہمی افغانستان کے ساتھ جن ملکوں کی سرحدیں لگتی ہیں وہاں سے آرہی ہیں۔ تاہم انہوں نے کسی ملک کی خفیہ ایجنسی کا نام نہیں لیا۔

ایک سوال کے جواب میں میجر جنرل اطہر عباس نے ان خبروں کی تردید کی کہ پاکستان، بھارت کے ساتھ سرحد سے چھ ہزار فوجی نکال کر قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن کے علاقوں میں تعینات کر رہا ہے۔

صوفی محمد کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اُنہیں صوفی محمد کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے کہ وہ اس وقت کہاں ہیں اور ابھی تک صوبہ سرحد کی مذاکراتی ٹیم نے اُن سے تک مذاکرات نہیں کیے۔

سوات کی صورتحال کا ذ کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ وہاں پر امن معاہدہ برقرار ہے جبکہ دوسرا گروپ اس معاہدے کی باربار خلاف ورزی کر رہا ہے۔

شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کو مذید مؤثر بنانے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پاکستان نے امریکہ اور برطانیہ سے کہا ہے کہ وہ تیز رفتار ہیلی کاپٹر اور دوسرا اسلحہ فراہم کریں تاکہ اس آپریشن کو کامیاب بنایا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کے دوران شدت پسندوں نے اس کارروائی میں حصہ لینے والے ہیلی کاپٹروں پر بھی گولیاں چلائی ہیں جو ان ہیلی کاپٹروں کو لگی ہیں۔