’شر پسندوں کے خلاف کارروائی ہوگی‘

پولیس
،تصویر کا کیپشنان ہنگاموں میں بتیس افراد ہلاک ہوئے
    • مصنف, ارمان صابر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
  • وقت اشاعت

وزیر داخلہ سندھ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے کہا ہے کہ ہنگامہ آرائی میں ملوث رنگے ہاتھوں پکڑے جانے والوں کو نہیں چھوڑا جائے گا اور نہ ہی اس معاملے پر سیاسی دبا‎‎‎ؤ برداشت کیا جائے گا جبکہ حکومت پُرتشدد واقعات میں ہونے والے نقصانات کا ازالہ کرے گی۔

یہ بات انہوں نے جمعرات کو وزیراعلیٰ ہاوس میں وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس کے بعد ایم کیو ایم کے ڈپٹی کنوینر اور وفاقی وزیر ڈاکٹر فاروق ستار اور اے این پی سندھ کے جنرل سیکریٹری امین خٹک کے ہمراہ مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

ذوالفقار مرزا نے کہا کہ وہ تمام اتحادیوں سے مسلسل رابطے میں ہیں اور میڈیا سے درخواست کی کہ وہ ایسی خبریں نشر نہ کرے جو اشتعال پھیلانے کا سبب بنیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے حالات پر ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین اور اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی نے بھی امن کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے حالات پر صدر اور وزیراعظم نے بھی اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ داخلہ نے شرپسندوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایت کی ہے۔

اسلحہ کے خلاف آپریشن کے حوالے سے وزیر داخلہ نے کہا کہ پہلے ہمیں وفاقی حکومت سے اسلحہ کی آمد کا راستہ روکنے کے لیے تعاون چاہیے ہوگا اور شہر میں تمام داخلی راستوں پر اسلحہ کی روک تھام کے لیے مانیٹرنگ کرنا ہوگی۔

ایم کیو ایم کے رہنماء ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ کراچی میں ہونے والے واقعات انتہائی قابل افسوس اور قابل مذمت ہیں، موجودہ حالات اتحادی جماعتوں کے خلاف سازش ہیں اور ہم نے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر اس کا مقابلہ کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اے این پی اور ایم کیو ایم کا نہ تو آپس میں اور نہ ہی دونوں جماعتوں کا پیپلز پارٹی سے کوئی اختلاف ہے۔ یہ ایک سازش ہے جس کے باعث حکومت کی عملداری ہی داؤ پر لگی ہے۔ ان کے بقول اس سازش کے پیچھے کارفرما افراد یا گروہ کا پتہ چلانا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ تینوں سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس سازش کو بے نقاب کریں اور اپنے اطراف شرپسندوں پر کڑی نگاہ رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ شرپسندوں سے نمٹنے کے لئے سیاسی جماعتوں کو حکومت کا ساتھ دینا ہوگا۔

اے این پی سندھ کے جنرل سیکریٹری امین خٹک نے کہا کہ اجلاس سے قبل انہیں زیادہ امیدیں نہیں تھیں تاہم اجلاس میں شرکت کے بعد ان کے حوصلے بلند ہوئے ہیں اور وہ کراچی میں امن کے قیام کے سلسلے میں بہت پرامید ہیں۔ ان کے بقول اجلاس میں امن و امان کے قیام کے لئے اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ ان کے خیال میں اس طرح کے اجلاس ہر ماہ منعقد ہونے چاہیے تاکہ تمام اتحادیوں میں مربوط تعاون جاری رہے۔