طالبان کی ’پیش قدمی‘

بیت اللہ محسود
،تصویر کا کیپشنتحریک طالبان پاکستان کے سربراہ بیت اللہ محسود سے حکومت نے امن معاہدہ کیا تاہم طالبان کا اثر ونفوذ ملحقہ علاقوں میں جاری رہا
    • مصنف, ہارون رشید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں مقامی طالبان نے حکومت کے ساتھ مختلف معاہدے کر کے اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے بعد اس خطے سے جڑے مختلف بندوبستی اضلاع کا رخ کیا۔

دو ہزار سات میں اگر سینکڑوں کی تعداد میں شدت پسندوں نے جنوبی وزیرستان کے گیٹ وے ٹانک پر حملے کرکے اسے تہس نہس کرنے کی کوشش کی تو دوسری جانب شمالی وزیرستان سے ملحق بنوں اور لکی مروت جیسے شہروں میں حملے کرکے اپنی موجودگی اور عزائم کا احساس دلانے کی کوشش کی۔

لیکن یہ علاقے پاکستانی طالبان کی قیادت والے قبائلی علاقوں یعنی وزیرستان سے قریب ہونے کی وجہ سے ان کے لیے مناسب نہیں تھے۔ طالبان کے تین بڑے رہنماؤں کا تعلق شمالی اور جنوبی وزیرستان سے ہے۔ جنڈولہ اور بکاخیل کے علاقوں میں راستے بند ہونے سے ان کی قوت مفلوج ہو کر رہ جاتی تھی۔ وہ اور ان کے جنگجو حکومتی بندش کی وجہ سے کئی کئی ماہ تک نقل و حرکت نہیں کرسکتے تھے۔

قبائلی علاقوں سے ملحق ان بندوبستی علاقوں میں قدرے مضبوط حکومتی رٹ، پولیس کی موجوگی اور طاقتور قبائل کی وجہ سے بظاہر شدت پسندوں کی دال نہیں گلی۔ لہذا وزیرستان کے بعد جو فرنٹ کھولا گیا وہ انتہائی شمال میں باجوڑ تھا۔ باجوڑ میں قدرے کامیابی کے بعد اور سکیورٹی فورسز کی توجہ منقسم کرنے کے لیے شدت پسندوں نے سوات کا انتخاب کیا۔

سوات ان شدت پسندوں کے لیے زیادہ زرخیز ثابت ہوا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں پہلے ہی شرعی نظام کے لیے گزشتہ کئی برسوں سے جاری تحریک اور حکومت کی کمزور رٹ نے شدت پسندوں کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا۔ پھر جس قسم کی گوریلہ جنگ کے شدت پسند ماہر ہیں اس کے لیے سوات جیسے پہاڑی علاقے بنوں اور ٹانک جیسے میدانی علاقے سے زیادہ موزوں تھے۔

صوفی محمد
،تصویر کا کیپشنسوات میں قیام امن کے لیے صوبہ سرحد کی حکومت نے کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد سے معاہدہ کیا

سال دو ہزار سات کا سورج سوات کے لیے کوئی اچھی خبر نہیں لایا تھا۔ اگرچہ مولانا صوفی محمد کے داماد مولانا فضل اللہ اپنے منفرد انداز بیان اور عادات کی وجہ سے کافی جانے پہچانے جاتے تھے لیکن اس وقت تک وہ اپنا غصہ غیرقانونی ایف ایم چینل کے ذریعے پولیو کے خاتمے کی مہم اور ٹی وی یا وی سی آر پر اتارتے رہتے تھے۔ انہوں نے امام ڈھیری میں اپنا ہیڈکواٹر بنا رکھا تھا۔ لیکن جولائی دو ہزار سات میں اسلام آباد میں لال مسجد کے بعد سوات کے شدت پسند متحرک ہوئے۔ مولانا فضل اللہ نے سکیورٹی فورسز کے خلاف حملوں کا اعلان کر دیا۔

صوبہ سرحد میں چھ مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی حکومت شدت پسندوں کی کارروائیوں کو نظرانداز کرتی رہی۔ اس سال تیرہ جولائی کو حکومت کی جانب سے نیم فوجی ملیشیا فرنٹیئر کور کی تعیناتی کا فیصلہ ہوا۔ اس کے دو روز بعد سوات میں پہلے خودکش حملے میں تیرہ ایف سی اہلکار اور چھ شہری ہلاک کر دیئے گئے۔ اس کے بعد تو جیسے سوات مکمل میدان جنگ میں تبدیل ہوگیا۔

اسی سال اکتوبر میں مولانا فضل اللہ نے شرعی عدالتوں کے قیام کا اعلان بھی کر دیا۔

تین نومبر کو سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے ملک میں بگڑتی صورتحال، خصوصاً سوات کے حالات کو ایک جواز بنا کر ہنگامی حالت کا اعلان کرتے ہوئے فوج روانہ کر دی۔ تین ہفتوں کے قلیل عرصے کے آپریشن ’راہ حق‘ کے بعد فوج نے سوات کو شدت پسندوں سے پاک قرار دے دیا۔

بونیر طالبان
،تصویر کا کیپشنسوات میں قدرے خاموشی کے بعد طالبان نے ضلع بونیر میں حکومت کی رِٹ کو چیلنج کر دیا

نئی حکومت کے قیام کے بعد پھر سکیورٹی فورسز حرکت میں آئیں اور اپریل میں امام ڈھیری کے ہیڈکواٹر پر قبضہ کر لیا۔ لیکن مئی دو ہزار آٹھ میں عوامی نیشنل پارٹی نے شدت پسندوں کے ساتھ اکیس نکاتی امن معاہدہ کیا جو زیادہ عرصہ نہ چل سکا۔

دسمبر تک شدت پسند سوات کے پچھتر فیصد رقبہ پر قابض ہوگئے۔ پھر فوجی آپریشن ’راہ حق ٹو‘ کا آغاز ہوا لیکن سرحد حکومت کی شکایت کے مطابق کوئی زیادہ مؤثر ثابت نہ ہوسکا۔ اس پر صوبائی حکومت نے فروری دو ہزار نو میں نفاذ نظام عدل پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے مولانا صوفی محمد کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کر دیے۔

اس معاہدے کی آڑ میں شدت پسندوں نے قریبی اضلاع کا رخ کر لیا۔ حکومت نے ان علاقوں میں کارروائی شروع کر دی۔

سوات کی قدرتی دلکشی کبھی سیاحت کا سبب تھی مگر اب اس کی جغرافیائی اہمیت اس کے لیے عذاب کا موجب ہے۔