’بونیر میں حکومت نے طالبان کی مدد کی‘

- مصنف, عبدالحئی کاکڑ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
- وقت اشاعت
صوبہ سرحد کے ضلع بونیر میں طالبان مخالف لشکر کے کسی رہنماء نے پہلی مرتبہ خاموشی توڑتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ حکومت نے وعدے کے باوجود ان کا ساتھ نہ دے کر بظاہر بونیر پر قبضے میں طالبان کی مبینہ طور پر مدد کی تھی۔
بونیر کے سلطان وس گاؤں کے مقامی لشکر کے ایک سرکردہ رہنماء عبدالمالک عرف شینا خان نے بی بی سی سے فون پر بات کرتے ہوئے پہلی مرتبہ بونیر میں طالبان کی آمد اور ان کے علاقے پر کنٹرول حاصل کرنے کے بارے میں تفصیلات منظر عام پر لائی ہیں۔ یہ مقامی لشکر محض چوبیس گھنٹے کی مزاحمت کے بعد طالبان کے سامنے بے بس ہوکر تتر بتر ہوگیا تھا۔
مقامی لشکر کی سربراہی سلطان وس گاؤں کے دو نامی گرامی گھرانوں کے فاتح خان اور عالمزیب خان کر رہے تھے۔ اس وقت اس خاندان کے درجنوں افراد روپوشی کی زندگی گزار رہے ہیں۔
فاتح خان کے خاندان سے تعلق رکھنے والے عبدالمالک کا کہنا ہے کہ جب پانچ اپریل کی رات انہیں بونیر میں سوات کے طالبان کے داخل ہونے کی خبر ملی تو ان کے پہلے سے تشکیل شدہ لشکر نے مورچے سنبھال لیے۔ ان کے مطابق اگلے ہی دن بونیر کے ضلعی رابط آفسر جاوید خان اور پولیس سربراہ عبدالرشید خان نے طالبان کا راستہ روکنے کے لیے حکمت عملی وضع کرنے کے حوالے سے ایک جرگہ بلایا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جرگے میں فیصلہ کیا گیا کہ طالبان کی واپسی کے حوالے سے ان کی سوات میں موجودہ قیادت سے رابطہ کیا جائے جس کے بعد بقول ان کے عمائدین نے طالبان ترجمان مسلم خان سے فون پر رابطہ کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مسلم خان نے پہلے تو انکار کیا کہ بونیر آنے والے طالبان ان کے ساتھی ہیں لیکن بعد میں انہوں نے اپنا مؤقف تبدیل کردیا جس کے بعد ہی عمائدین نے کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا۔

عبدالمالک کا کہنا تھا کہ چھ اپریل کو مغرب کے وقت پہاڑ کی چوٹی پر دو سو کے قریب بیٹھے طالبان اور پہاڑ کے دامن میں موجود تقریباً تین سو افراد پر مشتمل لشکر کےدرمیان فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوا جو ایک گھنٹے تک جاری رہا۔ ان کے بقول سات اپریل کی صبح انہیں پتہ چلا کہ فائرنگ میں لشکر کے تین رضاکار اور تین پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ ان افراد کی تدفین کے بعد انہیں مالاکنڈ ڈویژن کے اس وقت کے کمشنر سید محمد جاوید کا پیغام آیا کہ’تقریباً چار ہزار طالبان سوات سے بونیر کی طرف آ رہے ہیں۔‘
عبدالمالک کے مطابق انہوں نے سینکڑوں طالبان کی آمد اور حکومت کے وعدے کے باوجود لشکر کی مدد نہ کرنے کی صورتحال کو دیکھ کر علاقہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے بقول مقامی انتظامیہ نے محض بیس پولیس اہلکار لشکر میں شامل کیے حالانکہ انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ ’ہم طالبان کے خلاف آپ لوگوں کے شانہ بشانہ لڑتے ہوئے نفری اور اسلحہ دیں گے‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے بتایا کہ وہ یعنی فاتح خان اور عالمزیب کے خاندانوں کے درجنوں افراد پچیس کے قریب گھر خالی چھوڑ کر چلے گئے۔
عبدالمالک کا دعوی تھا کہ ان کے مکانات میں ایک اندازے کے مطابق دو سو تولے سونا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ طالبان نے ’عبرت اور دہشت‘ کی خاطر ان کا سامان اگلے دن باہر نکال کر نیلام کرنے کی بھی کوشش کی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ طالبان نے ان کے مکانوں پر قبضہ کر کے انہیں ہیڈ کوراٹر میں تبدیل کر دیا۔ ان کے بقول طالبان نے پیر بابا بازار میں ان کی چالیس دوکانوں پر مشتمل مارکیٹ کے کرایہ داروں کو انہیں کرایہ دینے کا حکم دیا۔
اس کے علاوہ ان کا یہ دعویٰ بھی تھا کہ طالبان نے ڈگر اور پیر بابا میں واقع عالمزیب خان اور فاتح خان کے دو دو پٹرول پمپوں پر قبضہ کرکے چھ لاکھ ساٹھ ہزار روپے نقد اور بارہ لاکھ روپے کا تیل فروخت کر دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ان کی سات ماربل فیکٹریوں میں موجود پہلے سے تیار شدہ مال کو چالیس روپے میں بیچ دیا جس میں سے ایک ٹرک کا مال انہوں نے اپنے ایک ساتھی سے اسلام آباد میں پکڑوایا۔
عبدالمالک نے دعویٰ کیا کہ ان کی دو مال بردار گاڑیاں، دو ٹرک، دو جیپیں اور دو موٹر سائیکلیں بھی طالبان نےقبضےمیں لے لیں۔
بونیر میں جاری فوجی کی آپریشن کے بارے میں عبدالمالک کا کہنا تھا کہ اس سے انہیں یہ امید ہوچلی ہے کہ شاید فوج طالبان کا صفایا کر کے انہیں واپس اپنے گاؤں میں آنے کا موقع فراہم کر دے۔






















