ایم کیو ایم انتہائی قدم اٹھا سکتی ہے‘

الطاف حیسن
    • مصنف, احمد رضا
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
  • وقت اشاعت

حکومتی اتحاد میں شامل جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آئی جی پولیس سندھ صلاح الدین بابر خٹک اور کراچی پولیس کے سربراہ وسیم احمد کو ان کے عہدوں سے فوری برطرف کریں بصورت دیگر اسے ’انتہائی اہم فیصلہ‘ کرنا پڑے گا۔

یہ انتباہ ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے ارکان محمد انور، انیس احمد ایڈوکیٹ اور سلیم شہزاد نے جمعہ کی شب لندن سے بذریعہ ٹیلی فون کراچی پریس کلب میں مشترکہ اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے دیا۔ اس موقع پر ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر فاروق ستار، ڈپٹی پارلیمانی لیڈر حیدر عباس رضوی اور وفاقی وزیر بابر غوری بھی موجود تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں پولیس سربراہان نے انتیس اپریل کو کراچی میں ہونے والے پرتشدد واقعات کے بارے میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور وزیر اعلی سندھ سید قائم علی شاہ کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان افسران نے بریفنگ کے دوران تشدد کے واقعات کو لسانی رنگ دینے کی کوشش کی اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ یہ لینڈ مافیا اور جرائم پیشہ عناصر کی دہشتگردی کا معاملہ نہیں بلکہ ایک لسانی جھگڑا ہے اور ثابت کرنے کی کوشش کی کہ شہر میں حالات کی خرابی کی ذمہ دار ایم کیو ایم ہے۔

رابطہ کمیٹی کے ارکان نے کہا کہ سی سی پی او کراچی نے اپنی بریفنگ میں شہر سے اسلحے کے خاتمے کے لئے گھر گھر تلاشی کی تجویز بھی پیش کی۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ پولیس سربراہان کراچی کے شہریوں سے تلاشی کے بہانے لائسنس یافتہ اسلحہ بھی چھیننا چاہتے ہیں جسے ایم کیو ایم کسی صورت برداشت نہیں گی کیونکہ ان کے بقول کراچی کے شہریوں کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔

’ہمارا سوال یہ ہے کہ سہراب گوٹھ، الآصف اسکوائر، بنارس چوک، منگھو پیر، شیرپاؤ کالونی اور قائد آباد میں اسلحہ کے ذخائر سی سی پی او کراچی اور آئی جی سندھ کو نظر نہیں آتے۔ انہیں لیاری کے علاقے میں اسلحہ کے ذخائر نظر نہیں آتے۔‘

انہوں نے یہ بھی خدشہ ظاہر کیا کہ سندھ پولیس کے حکام ایم کیو ایم کے خلاف 1992ء جیسا کھیل کھیل رہے ہیں جب 72 بڑی مچھلیوں کی فہرست کی آڑ میں ایم کیو ایم کے خلاف فوجی آپریشن کیا گیا تھا اور ایک بار پھر ایم کیو ایم کے خلاف ماحول بنانے کی کوشش کی جاری ہے۔

انہوں نے حکومت کو یہ بھی باور کرایا کہ اگر وہ واقعی صورتحال بہتر بنانا چاہتی ہے اور اسے کراچی کا امن و ترقی واقعی عزیز ہے تو اسے شہر کے لینڈ مافیا، ڈرگ مافیا اور جرائم پیشہ عناصر کا خاتمہ کرنا ہوگا اور ان کی سرپرستی کرنے والے پولیس کے بااثر حکام کے خلاف کارروائی کرنا ہوگی۔ ورنہ یہ عناصر طالبان کے ساتھ ملکر کراچی میں بار بار قتل و غارت گری کا کھیل کھیلتے رہیں گے۔‘

دوسری طرف پیپلز پارٹی کی رہنما اور صوبائی وزیر اطلاعات شازیہ مری نے ایم کیو ایم کے اس انتباہ پر ردعمل ظاہر کرتے کہا ہے کہ اگر ایم کیو ایم کے کوئی مطالبات اور تحفظات ہیں تو وہ وزیر اعظم کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں اٹھا سکتے تھے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

انہوں نے ایم کیو ایم کے اس خدشے کو بھی بے بنیاد قرار دیا کہ اس کے خلاف 1992ء کی طرح آپریشن کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے۔

شازیہ مری نے کہا کہ جو آپریشن اس وقت کراچی میں کیا جارہا ہے وہ سب جانتے ہیں کہ ان جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ہے جنہوں نے کراچی کا امن خراب کیا ہے اورایسے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف آپریشن تو یقینی طور پر ہوگا۔

تاہم انہوں نے عندیہ دیا کہ حکومت ایم کیو ایم سے اس کے خدشات پر بات کرے گی۔