نجی سکول: طلباء سے سکیورٹی فنڈز کی وصولی

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
اسلام آباد اور راولپنڈی میں بڑے نجی تعلیمی اداروں نے ملک میں موجودہ امن وامان کی صورتحال کے پیش نظر سکیورٹی کے سامان کی خریداری کے لیے طلباء اور طالبات سے سیکورٹی فنڈز کے نام پر ایک سو روپے سے لیکر دو سو روپے تک ماہانہ وصول کرنا شروع کر دیے ہیں۔
اس حوالے سے ان نجی تعلیمی اداورں کے ذمہ دار افراد نے طلباء اور طالبات کے والدین کو آگاہ کردیا ہے۔ اس سے قبل بھی گذشتہ برس متعدد پرائیوٹ سکولوں کے سکیورٹی فنڈز کے ضمن میں طالبعلوں کی فیس میں ایک سو روپے کا اضافہ کردیا تھا۔
روٹس سکول سسٹم اسلام آباد کی رابطہ افسر سمیرا نے بی بی سی کو بتایا کہ موجودہ ملکی حالات اور تعلیمی اداروں کو ملنے والی دھمکیوں کے پیش نظر سیکورٹی کے انتظامات کو سخت اور مؤثر بنانے کے لیے یہ اقدام اُٹھایا گیا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ سکیورٹی کے اس سازوسامان میں واک تھرو گیٹس، میٹل ڈیٹیٹکٹرز کے علاوہ سیکورٹی کے اہلکاروں کی تعداد میں اضافہ بھی کیا جائے گا۔
مذکورہ نجی ادارے کی اہلکار کا کہنا تھا کہ یہ سازوسامان بہت مہنگا ہے اس لیے اس سکول سسٹم کی انتظامیہ اکیلے مالی بوجھ نہیں اُٹھا سکتی۔
واضح رہے کہ بڑے نجی تعلیمی اداورں میں پڑھنے والے بچوں کی فیس تین ہزار سے لیکر پانچ ہزار روپے ماہانہ ہے۔
رابطہ افسر کا کہنا تھا کہ اُن کے سکول سسٹم کی برانچیں ملک کے آٹھ بڑے شہروں میں ہیں ان میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کی تعداد دس ہزار کے قریب ہے۔
اسلام آباد کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ گدشتہ کچھ عرصے کے دوران مختلف نجی سکولوں کو دھمکی آمیز ٹیلیفون کال موصول ہوئیں تھیں جس کے بعد ان تعلیمی اداروں کے مالکان کے ساتھ اسلام آباد کی انتظامیہ اور پولیس افسران نے ملاقات کرکے اُنہیں سکیورٹی کو سخت کرنے کی ہدایت کی تھی۔
اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کے سربراہ ڈپٹی کمشنر اسداللہ فیض نے بی بی سی کو بتایا کہ شہر کی انتظامیہ اور پولیس نے دستیاب وسائل میں رہتے ہوئے سکیورٹی کے انتظامات کیے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے کہا کہ ان نجی تعلیمی اداروں میں سکول کھلنے کے وقت اور چھٹی کے وقت پولیس اہلکار تعینات کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نجی تعلیمی اداروں کے علاوہ سرکاری سکولوں کے اردگرد بھی حفاظتی اقدامات سخت کیے گئے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں کہ کیا ضلعی انتظامیہ نے ان سکولوں کے ذمہ دار افراد کو طلباء سے سیکورٹی فنڈ کے نام سے اضافی فیس لینے کی اجازت دی ہے تو اسد اللہ فیض کا کہنا تھا کہ ان نجی اداوں کے امور کے دیکھ بھال کے لیے ایک سرکاری ادارہ ضرور موجود ہے لیکن وہ اتنا مؤثر دکھائی نہیں دیتا۔
ان نجی سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طالبعلوں کے والدین کا کہنا ہے کہ سکول کی انتظامیہ اُن سے سیکورٹی فنڈ کے نام سے اضافی پیسے تو وصول کر رہے ہیں لیکن سکیورٹی کے کوئی خاطر خواہ انتظامات نہیں ہیں۔
ظفیر احمد جو کہ اسلام آباد کے ایک تاجر ہیں اور اُن کے تین بچے انہی نجی تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں اور اُن سے سکول کی انتظامیہ دو سو روپے ماہانہ فی طالبعلم سکیورٹی فنڈز کے نام سے پیسے لے رہے ہیں لیکن وہاں پر سکیورٹی کے انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ انہوں نے کہا ’سکول کی انتظامیہ نے تین چار سکیورٹی گارڈ مزید رکھے ہیں اور اُن کے ہاتھوں میں میٹل ڈیٹیٹکٹرز تھمائے ہوئے ہیں۔ اس علاوہ وہاں پر سکیورٹی کے کوئی خاص انتظامات نہیں ہیں۔‘
محمد الطاف کا کہنا ہے کہ اُن کے دوبچے اسلام آباد میں واقع ایک بڑے نجی ادارے میں پڑھتے ہیں اور وہاں پر سکیورٹی کے نامناسب اقدامات کی وجہ سے انہوں نے پرائیوٹ سکیورٹی گارڈ کی خدمات حاصل کی ہیں جو اُن کے بچوں کو سکول چھوڑنے اور وہاں سے لانے کی ذمہ داری ادا کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ گذشتہ کچھ عرصہ کے اسلام آباد میں نجی سکولوں کو موبائیل فون سے یہ پیغام آتے رہے جس میں کہا جاتا رہا کہ ان سکولوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جائے گا جس کے بعد نجی تعلیمی ادارے ایک روز کے لیے بند کر دیئے گئے تھے۔
وزیر داخلہ رحمان ملک کا کہناہے کہ ایسے دہمکی امیز ایس ایم ایس بھیجنے والوں کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے اُن کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔






















